خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 240

خطبات طاہر جلد ۳ 240 خطبہ جمعہ الارمئی ۱۹۸۴ء أَجْمَعِينَ قَالُوا إِنَّا إِلَى رَبَّنَا مُنْقَلِبُونَ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا إلَّا أَنْ اُمَنَّا بِالتِ رَبَّنَا لَمَّا جَاءَتْنَا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (الاعراف:۱۲۱ - ۱۲۷) وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لاَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمُ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ( آل عمران : ۱۷۹) اور پھر فرمایا: یہ تمام آیات جو میں نے آپ کے سامنے مختلف سورتوں سے اخذ کر کے تلاوت کی ہیں ان سے متعلق میں گزشتہ ایک سال میں مختلف خطبات میں اظہار خیال کر چکا ہوں اور ان کے مضمون کو جماعت کے سامنے مختلف شکلوں میں واضح کر چکا ہوں لیکن آج ان سب کو اکٹھا اس لئے میں نے پڑھا ہے کہ ان پر اجتماعی غور کرنے سے ایک نیا مضمون سامنے آتا ہے جس کا موجودہ حالات سے ایک بہت گہرا تعلق ہے اور ایک ایسا فلسفہ انسان کے سامنے ابھرتا ہے جو تاریخ انبیاء کے مطالعہ کے سوا انسان پر روشن نہیں ہوسکتا۔ان آیات کے اجتماعی مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ظہور نبوت ہمیشہ ایسے حالات میں ہوتا ہے جب دنیا بالعموم یا کوئی قوم بالعموم دہر بیت کا شکار ہو چکی ہوتی ہے اور دہریت کے ساتھ ظہور نبوت کا ایک گہرا تعلق ہے۔دیگر بد اعمالیاں بھی نبوت کی اصلاح کے تابع ہوتی ہیں لیکن دہر یت ایک ایسی بیماری ہے جب یہ خون میں داخل ہو جائے اور ایک زہر بن کر پھیل جائے تو اس کا علاج سوائے نبوت کے اور کوئی نہیں۔چنانچہ جب قوم دہریت کی طرف مائل ہو جاتی ہے اس وقت ضرورت نبوت ہوتی ہے جیسا کہ پہلے کبھی نہیں پیش آئی ہوتی اور اس کے سوا چارہ کوئی نہیں رہتا۔یہ دہریت ابتدا میں ایک مخفی حالت میں رہتی ہے۔قو میں بظاہر مذاہب کی طرف منسوب ہوتی ہیں اور مذاہب کے نام پر بڑا افساد بھی بر پا کرتی ہیں اور بلند بانگ دعاوی بھی کرتی ہیں اور مذاہب کی تبلیغ میں بھی مصروف نظر آتی ہیں لیکن اندر سے ان کا ایمان کھایا جا چکا ہوتا ہے اور حقیقت میں اللہ کی ہستی پر ان کا ایمان اٹھ چکا ہوتا ہے۔یہی وہ فلسفہ ہے جس