خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 235

خطبات طاہر جلد ۳ 235 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۸۴ء مفہوم انہی پیمانوں سے طے ہو گا جو قرآن بیان فرما رہا ہے اور جو سنت محمد مصطفی علہ بیان فرما ر ہے ہیں ان کے دائرے کے اندر طے ہوگا اور جہاں خدا صبر کی تعریف میں یہ بات داخل کر دے گا کہ تم نے دفاع کرنا ہے اور اس کے نتیجہ میں جو کچھ ہوتا ہے اس پر صبر کرو تو صبر کا یہ مفہوم ہو گا کہ تم نے دفاع کرنا ہے اور اس کے نتیجہ میں جو کچھ گزرتی ہے تمہیں برداشت کرنا پڑے گا۔مثلاً ابھی کل ہی یہ حیرت انگیز ظالمانہ بات مجھے معلوم ہوئی کہ ربوہ میں حکومت کے باشندوں نے یہ حکم دیا جماعت کو کہ کلمہ لا الہ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ جہاں جہاں تم نے اپنی مسجدوں پر اور دیواروں پر لکھا ہے اس کو مٹا دو اَلْحَمْدُ لِلهِ کہ خدا نے ان کو صحیح فیصلے کی توفیق بخشی، انہوں نے کہا کہ ناممکن ہے جماعت احمدیہ اپنے ہاتھ سے کلمہ کو نہیں مٹائے گی۔تم نے جو کچھ کرنا ہے بے شک کرو چنانچہ جب مجھے اطلاع ملی تو میں نے ان کو فورافون کروایا کہ آپ نے بالکل ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔کوئی احمدی کلمہ توحید کو نہیں مٹائے گا۔اس کے ہاتھ کاٹے جائیں گے، اس کا سر قلم ہو سکتا ہے لیکن اپنے ہاتھوں سے وہ کلمہ توحید کو مٹادے یہ تو ناممکن ہے ہمارے اختیار کی بات نہیں۔تو اسی طرح مذہب کی مبادیات ہیں وہاں پہنچ کر آپ یہ خوف دل سے دور کر دیں کہ گویا نعوذ باللہ من ذلک آپ باغی شمار ہوں گے، باغی آپ تب شمار ہوں گے جب خدا اور رسول کے احکام کے مقابل پر کسی دنیا دار کی بات مانیں گے۔جب دنیا دار کے احکام کے مقابل پر خدا اور رسول کی بات مانیں گے جب ٹکرا رہی ہوگی وہ بات تو پھر آپ باغی نہیں شمار ہوں گے پھر وہ باغی شمار ہوں گے خدا کے جنہوں نے کوشش کی کہ اپنے حکم کو خدا اور رسول کے حکم پر فوقیت دیں۔اس لئے یہ بھی میں خوب اچھی طرح کھول دیتا ہوں تا کہ دنیا میں جہاں بھی کہیں احمدی ہیں وہ اس کو خوب سمجھ لیں۔صرف ایک ملک کا سوال نہیں ہمارے مقدر میں تو بڑی قربانیاں ہیں، ملک ملک ہم نے اپنے خون سے رنگین کرنے ہیں ، ملک ملک ہماری قربانیوں نے روحانی انقلابات بر پا کرنے ہیں اس لئے میرا مخاطب تمام جہان کا انسان ہے اور مَنْ اَنْصَارِی کی آواز بھی تمام جہان کے احمدیوں کے لئے ہے اس لئے جب آپ اس آواز پر لبیک کہتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ساری جماعت لبیک کہتی ہے تو اس کے لئے یہ ضروری اب نہیں ہوگا کہ ہر ایک آدمی لکھ کر مجھے بھیجے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک کروڑ خط میں کیسے سنبھال سکتا ہوں اور ایک کروڑ خطوں کا مطالعہ کرنا اور ان کو فائلیں کرنا ہی اتنا بڑا