خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 234
خطبات طاہر جلد ۳ 234 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۸۴ء اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو بھی حاکم وقت ہے اس کی اطاعت کرو چنانچہ ہم نے اس حکم سے کبھی بھی جماعت کی تاریخ میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہے کہ اس حکم سے سر موفرق کیا ہولیکن یہ آیت یہاں ختم نہیں ہو جاتی آگے چلتی ہے اور یہ مضمون آنحضرت ﷺ کی امت کی عظمت کو بیان کرنے کی خاطر ایک اور منزل میں داخل ہو جاتا ہے فرماتا ہے فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ اگر مذہبی معاملہ میں اختلاف ہو جاے فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ پھر تم نے أُولِي الْأَمْرِ کی طرف دیکھنا نہیں ہے پھر صرف اللہ اور رسول کے تابع رہ کر فیصلے کرنے ہیں۔کس طرح أولى الأمر کو نکال کر اس مضمون سے باہر کر دیا ؟ دنیاوی معاملات میں جہاں تک أولى الْأَمْرِ اپنے دائرہ اختیارات میں رہتا ہے اور ان سے تجاوز نہیں کرتا اور خدا اور محمد مصطفیٰ کے احکامات میں دخل اندازی نہیں کرتا لازماً ہم اس کی اطاعت کریں گے اور جہاں وہ دخل اندازی کرے گا اور قرآن اور رسول سے ہمیں الگ کرنے کی کوشش کرے گا لازماً ہم اس کی اطاعت نہیں کریں گے خواہ اس کے لئے جانیں دینی پڑیں۔کوئی پرواہ نہیں جتنے سر کٹتے ہیں کٹیں گے لیکن قرآن اور محمد مصطفی ﷺ سے جماعت کو کوئی دنیا کی طاقت جدا نہیں کر سکتی۔اب میں یہ بھی آپ کو بتادیتا ہوں کہ اگر کسی کو یہ وہم ہو کہ جماعت احمدیہ کو مٹا سکتا ہے تو یہ وہم اس کو دل سے نکال دینا چاہئے۔بڑے بڑے دعوے دار آئے ہیں ان کے نشان خدا نے مٹا دیئے ، پارہ پارہ کر دیا ان کی صلى الله طاقتوں کو۔تو ہم نے جب سب کچھ خدا کے حضور پیش کیا تو ہماری تو طاقت ہی کوئی نہیں۔میں تو یہ توجہ دلا رہا ہوں کہ ہمیں ان سے بھی کم سمجھ لو جو مسیح کے حضور سب کچھ پیش کرنے والے، چند انصاری تھے، ہم تو اتنے عاجز بندے ہیں کہ ہمیں اس کا کوئی شوق نہیں کہ ہماری طاقتوں کو بڑی بڑی طاقتوں کے پیمانوں پہ نا پا جائے ، ہم تو خود عاجز ہیں اور اقراری ہیں اپنی کمزوریوں کے۔ہم تو کہتے ہیں کہ اے اللہ ہم میں وہ طاقت بھی نہیں ہے جو مسیح کے حواریوں میں تھی مگر جب انہوں نے سب کچھ پیش کر دیا اور تو نے انہیں غالب کر کے دکھایا تو آج بھی ہم سے ویسا ہی فضل فرما بلکہ اس سے بڑھ کر فضل فرما کیونکہ ہم حضرت محمد مصطفی حملے کے غلام ہیں اس لئے صبر کا یہ معنی لینا کہ قرآن کی حدود سے باہر نکل کر عیسائی تصور میں صبر کیا جائے گا بالکل غلط ہے۔یہ میں خوب کھول کر واضح کر دینا چاہتا ہوں۔صبر کا