خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 232
خطبات طاہر جلد ۳ 232 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۸۴ء سب کچھ میرے حضور پیش کر دو گے تو میں کیا کیا کچھ تمہارے لئے نہیں کروں گا۔یہ تھا وہ پیغام جو آنحضرت کو دیا گیا اور یہی پیغام ہے جو میں آپ کی غلامی میں آج آپ کو دیتا ہوں۔آج بھی جماعت کی تاریخ پر ایک ایسا وقت آیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا وقت نہیں آیا اس لئے تمام دنیا کے احمدیوں کو میں آواز دیتا ہوں کہ مَنْ اَنْصَارِی اِلَی اللہ اے خدا کے اس زمانے کے محبوب کے غلامو! میں تمہیں اللہ کے نام پر مدد کے لئے بلاتا ہوں۔اپنا سب کچھ خدا کے حضور حاضر کر دو اور خدا کی قسم خدا اپنی ساری کائنات آپ کی خدمت میں حاضر کر دے گا۔کوئی دنیا کی طاقت نہیں جو پھر اس تقدیر کو بدل سکے۔یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو لازماً ہو کر رہے گا اور لازماً اس کے مقدر میں کامیابی ہے اور کامیابی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عدوهم ان مظلوم بیکار بندوں پر ہم نے رحمت کی نظر کی جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور میرے حضور حاضر ہوئے کہ اے اللہ ! ہم حاضر ہیں تیری مدد کے لئے فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا ہم نے انکی مدد کی ہم تو ان کی مدد کے محتاج نہیں تھے۔کیسی تشریح خود فرما دی کہ جب خدا کے نام پر مدد مانگی جاتی ہے تو اسی طرح جس طرح بچے کو پیار کے ساتھ اس کی آزمائش کے لئے کسی طرف بلایا جاتا ہے۔فرمایا ہم نے ان کی مدد کی اور ان کے غالب دشمن پر ان کو غالب کر دیا۔پس آج جماعت کی تاریخ میں ایسا ہی وقت ہے لیکن اس مدد کو کیسے استعمال کیا جائے گا اور کس طریق پر جماعت احمدیہ کی تمام قوت کو اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا یہ فیصلہ کوئی آسان فیصلہ نہیں ہے۔بہت ہی اہم اور بنیادی فیصلہ ہے اور میں دن رات اس پر غور بھی کر رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے راہنمائی بھی طلب کر رہا ہوں۔پہلی مدد میں آپ سے یہ مانگتا ہوں کہ بکثرت دعائیں کریں اور اس معاملہ میں میری مدد کریں تا کہ اللہ تعالیٰ اپنی واضح راہنمائی کے ذریعے ہمیں ایک ایسا کشادہ اور صاف اور کھلا ہوا رستہ دکھائے جو لازماً کامیابی کی طرف لے جانے والا ہو۔نہ میں اپنی قربانی سے ڈرتا ہوں نہ میں جماعت کی قربانی سے ڈرتا ہوں۔اللہ نے مجھے وہ عزم اور حوصلہ عطا فرمایا ہے کہ جب وقت آئے گا اور جس قسم کا وقت آئے گا میں کسی قسم کی کوئی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے حکمت بھی عطا فرمائی ہے اور لازماً جہاد میں حکمت کی اول ضرورت پیش آیا کرتی ہے اس لئے جماعت احمدیہ کی زندگی، جماعت احمدیہ کی جان و مال کا ایک ذرہ ایک اونس بھی میں ضائع کرنے کے لئے تیار نہیں اور