خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 225

خطبات طاہر جلد ۳ 225 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۸۴ء لیکن حقیقت یہ ہے کہ قومی طور پر اگر کسی نے خود کشی کرنی ہو تو اس سے بہتر کوئی علاج نہیں اس کا کہ وہ جھوٹ اختیار کرلے۔تمام بدیوں کی جڑ جھوٹ ہے اور لطیفے کے طور پر بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہئے، ماؤں کو بچوں کے سامنے جھوٹ نہیں بولنا چاہئے ، جھوٹے بہلاوے نہیں دینے چاہئیں، جھوٹی کہانیاں نہیں سنانی چاہئیں۔ماؤں کی گودوں میں سچ اور جھوٹ کے فیصلے اکثر ہو جایا کرتے ہیں۔جب مائیں کہتی ہیں دل بہلاوے کے طور پر کہ تم چپ کر جاؤ ہم تمہیں ابھی مٹھائی لا کر دیں گی اور جانتی ہیں کہ ہم جھوٹ بول رہی ہیں تو بچے کے دل میں جھوٹ اس طرح جاگزیں ہو جاتا ہے کہ جب بڑے ہو کر انکو نصیحت کرتیں ہیں وہی مائیں کہ جھوٹ نہ بولو تو ان کا دل کہتا ہے کہ یہ اوپر کی باتیں ہیں اندر کی باتیں وہی ہیں جو ماں کیا کرتی تھی اور اوپر کی باتیں وہ ہیں جو کہتی ہے اور جھوٹے بچے، جھوٹی نسل پیدا ہو جاتی ہے۔تو بہت اہم فرض ہے جماعت احمدیہ کا کہ جھوٹ کے خلاف ایک جہاد کریں اور اپنی سوسائٹی میں جہاد کریں، لوگوں کو بھی روکیں جھوٹ سے اس کے نتیجہ میں عظیم الشان روحانی فوائد حاصل ہوں گے اور دنیاوی ترقیات بھی اس قوم کو عطا ہوں گی۔تیسری علامت منافق کی یہ بیان فرمائی کہ جب معاہدہ کرے تو غداری کرے، جب عہد کرے تو غداری کر جائے اور عہد سے پھر جائے اور یہ ایک ایسی بدی ہے جس کے نتیجہ میں امر واقعہ یہ ہے کہ تمام وہ نظام جو اعتبار پر چلتے ہیں وہ ختم ہو جاتے ہیں اور ہماری پسماندہ اقوام یا ترقی پذیر اقوام کی تجارتوں میں ناکامی کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ معاہدہ پر پوری نہیں رہتیں۔معاہدہ ہوتا ہے کسی سے کہ اس معیار کی چیز اس Dimention کی ، اس شکل کی ہم تمہیں دیں گے اور جب وہ چیز پہنچتی ہے تو اور معیار کی اور شکل کی اور کیفیت کی چیز ہوتی ہے۔اور بڑا گہرا نقصان پہنچایا ہے اس بد عہدی نے ہماری معاشیات اور اقتصادیات کو جبکہ بعض دہر یہ تو میں بعض مشرک قو میں اس راز کو سمجھ گئیں اور انہوں نے معاہدہ کی پابندی کر کے بہت عظیم الشان فوائد اٹھائے ہیں۔جو کہتے ہیں وہ چیز اندر سے نکلتی ہے۔تو معاہدہ کی خلاف ورزی میں جھوٹ بھی پایا جاتا ہے اور جھوٹ کے علاوہ کچھ ذاتی فوائد ایسے ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان بات سے پھرتا ہے۔بظاہر تو جھوٹ ہی کی ایک قسم ہے لیکن جھوٹ سے کچھ زائد عملی شکل اس میں پائی جاتی ہے، اس کو بدعہدی کہتے ہیں اور بد عہدی بعض دفعہ شروع ہی سے نیت میں داخل ہوتی ہے بعض دفعہ مشکل حالات انسان کو بدعہدی پر مجبور کر دیتے ہیں لیکن آنحضرت ﷺ کا اسوہ یہ تھا کہ کبھی کسی عہد کو آپ نے نہیں تو ڑا۔سخت ترین آزمائش کے وقت