خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 224
خطبات طاہر جلد ۳ 224 خطبه جمعه ۲۰ ر اپریل ۱۹۸۴ء Vision بگڑ جاتا ہے، ان کو نظر بھی کچھ اور آنے لگ جایا کرتا ہے اور ایسے بھی واقعات ہوتے ہیں کہ جھوٹ بولنے والا پھر اپنے ہی جھوٹ کا شکار خود ہو جاتا ہے جھوٹ بول بول کر اس جھوٹ پر ایمان لے آتا ہے اور ایک لمبے عرصہ کے بعد سمجھنے لگتا ہے کہ یہ واقعہ ہے۔تو نہایت ہی خطرناک اور مہلک بیماری ہے جھوٹ جو آنحضرت ﷺ کے نزدیک ایک منافقت کا نشان ہے اور جھوٹ اگر قوموں سے دور ہو جائے تو بہت عظیم الشان فوائد ملتے ہیں مثلاً Scienctist جھوٹ کے ساتھ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتا۔سائنسدان کی ترقی مبنی ہے اس بات پر کہ وہ خوش فہمیوں کے پیچھے نہ چلے، اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرے بلکہ جو نظر آ رہا ہے خواہ اس کی خواہشات کے بالکل مخالف ہوا سے تسلیم کر لے ، دل چاہتا ہے ، ایک خیال آتا ہے، ایک تھیوری (Theory) ایک نظریہ Develop ہوتا ہے اس کے دماغ میں اور وہ محسوس کرتا ہے کہ مجھے تلاش کرنا چاہئے شواہد میں کہ واقعہ یہ بات درست بھی ہے یا نہیں۔اگر وہ شواہد کو اپنی خواہشات کے مطابق چلانے کی کوشش کرے گا تو یہ جھوٹ ہے اور کچھ بھی اس کے ہاتھ نہیں آئے گا۔اگر واقعات جدھر اس کو لے جا رہے ہیں ان کے پیچھے چلنے لگے تو یہ بیچ ہے اور تمام سائنسی ترقی کی بنیاد سچائی پر ہے۔جہاں جھوٹ داخل ہو وہاں تو ہمات اور جادو گری اور فتنے اور احمقانہ باتیں داخل ہو جاتی ہیں اور سائنس کی دنیا سے انسان الگ ہو جاتا ہے۔تو سائنس کی دنیا سچائی کی دنیا ہے اور سائنس کہتے ہیں خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت کو جو نظام کائنات کی صورت میں ہمیں ملتی ہے اس کا مطالعہ، اور روحانیت اور مذہب کہتے ہیں خدا تعالیٰ کی قولی شہادت اور نظریات کا نظام اور اخلاقیات کا نظام اور جو ہمیں اسکی کتابوں میں ملتا ہے۔تو جولوگ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت کو جھٹلانے والے نہیں بنتے ان کو زیادہ توفیق ملتی ہے ،ہل سکتی ہے کہ وہ اس کی قولی شہادت کو بھی نہ جھٹلائیں اور جو لوگ عادی ہو جائیں جھوٹ کے عام دنیا کی باتوں میں ان کے اوپر خدا تعالیٰ کی کتاب کا رنگ چڑھ ہی نہیں سکتا۔ہر کپڑے پر ہر رنگ تو نہیں چڑھا کرتا۔پہلے ایک بنیادی صفائی ہوا کرتی ہے اس میں سے گزارے بغیر کوئی رنگ نہیں چڑھایا جاسکتا تو جھوٹے لوگوں پر شریعت کا رنگ نہیں چڑھ سکتا کیونکہ شریعت نام ہے سچائی کا اور کچھ بھی وہ نہیں پاسکتے ، نہ معرفت اور نہ اس دنیا کے فوائد نہ آخرت کے فوائد۔جھوٹا کلیۂ محروم رہ جاتا ہے۔ہر شعبہ زندگی میں وہ نا کام ہوتا ہے اور بظاہر وہ فوائد حاصل کر رہا ہوتا ہے تھوڑے تھوڑے ادنی فوائد عارضی