خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 223
خطبات طاہر جلد ۳ 223 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۸۴ء صاحب ! میں پھسلوں گا تو ایک بچہ پھیلے گا آپ نہ پھسل جانا کیونکہ اگر آپ پھیلیں گے تو قوم پھسل جائے گی۔ کتنا عظیم الشان جواب دیا اثر تنا نے ! پس وہ جماعت جو امین مقرر کی گئی ہو ساری دنیا کی اس کو اپنی امانتوں کی حفاظت کا خیال نہ رہے تو وہ کیا ر ہے گی باقی ! کس طرح دنیا کی اصلاح کر سکے گی ! اس لئے ان امانتوں کی حفاظت سب سے زیادہ اہم اور اول فرض جماعت احمد یہ کا ہے۔ کوئی ایک بھی علامت منافقت کی آپ کے اندر نہیں رہنی چاہئے اگر خدانخواستہ ہے تو اس کو دور کریں۔ اور جب آپ نصیحت شروع کر دیں تو کمزوریاں دور ہونی شروع ہو جائیں گی اور بالا رادہ منافقت کا تو میں خیال بھی نہیں کر سکتا کہ کوئی احمدی اس کا مرتکب ہو سکے۔ منافقت کی جیسا کہ میں نے کہا تھا دو قسمیں نظر آتی ہیں۔ ایک ہے مجبوری کی کمزوریاں جن سے انسان شرمندہ ہو اور نفس اس کا اسکو ذلیل کرتا رہے اور خدا کے حضور روئے اور گریہ وزاری کرے دور کرنے کی کوشش کرے اور مجبور سمجھے اس بات پر اپنے آپ کو کہ میں نے دنیا کو نصیحت کرنی ہی کرنی ہے۔ ایسے شخص کو اسلامی اصطلاح میں منافق نہیں کہا جاتا لیکن جب بالا رادہ کام کرتا ہے اور امانت میں خیانت کرتا ہے تو پھر وہ لازماً منافق بن جاتا ہے۔ دوسری علامت آنحضور ﷺ نے یہ بیان فرمائی جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور یہ اتنی بیماری بن گئی ہے خصوصاً پسماندہ اقوام میں اس میں کوئی ایک ملک خاص نہیں ہے عموماً پسماندہ اقوام میں جھوٹ بہت کثرت سے بولا جاتا ہے اور جو بڑی قو میں ہیں ان میں انفرادی سطح پر جھوٹ بہت کم ملتا ہے۔ وہ اس کمی کو پورا کر لیتی ہیں قومی فتنوں کے وقت جھوٹ بول کر قومی مصالح کے وقت جھوٹ سے کام لے کر اور جھوٹے پروپیگنڈے کر کے وہ اپنی طرف سے تو پیاس بجھا لیتی ہیں اس کی لیکن جہاں تک انفرادی سطح کا تعلق ہے وہ بہت بہتر ہیں ان قوموں سے جنہیں ہم پسماندہ قو میں کہتے ہیں یا ترقی پذیر قو میں کہتے ہیں اور اس لحاظ سے بھی جماعت احمدیہ پر عظیم ذمہ داری ہے ۔ ۔ جھوٹ کو تو زہر قاتل سمجھنا چاہئے ۔ منافقت کا سب سے بڑا ز ہر جھوٹ ہے۔ ایک انسان بات کرے اور جھوٹ بول رہا ہو کیونکہ جھوٹ کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی حقانیت کا انکار ۔ جھوٹ بولنے والی قو میں دنیا میں کسی شعبے میں بھی ترقی نہیں کیا کرتیں۔ آپ کی آنکھ جو دیکھ رہی ہے اگر وہی ہو تو یہ سچ ہے اور اگر آپ کو غلط نظر آرہا ہو تو یہ بیماری ہے لیکن آپ دیکھ کچھ اور رہے ہوں اور بیان کچھ اور کر رہے ہوں یہ جھوٹ ہے۔ تو جو جھوٹی قوموں ہوتی ہیں ان کو پھر آنکھوں کی بیماریاں بھی لاحق ہو جایا کرتی ہیں، ان کا