خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 217
خطبات طاہر جلد۳ 217 خطبه جمعه ۲۰ راپریل ۱۹۸۴ء ان چندلوگوں پر ہوتی ہے جن کو خدا تعالیٰ اس کام کے لئے چن لیا کرتا ہے۔تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ میں دوسری بات قابل توجہ یہ ہے کہ اس میں کسی مذہبی عقیدہ کی تفریق کا کوئی ذکر نہیں۔یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ لوگ کسی خاص عقیدہ کی تبلیغ کرتے ہیں اور بعض خاص عقیدوں سے روکتے ہیں بلکہ اصلاح معاشرہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ان بدیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو ہر مذہب کے نقطہ نگاہ میں، الا ماشاء الله بعض بگڑے ہوئے مذاہب کے بعض تصور بگڑ جاتے ہیں لیکن بالعموم ہر مذہب کے نقطہ نگاہ میں وہ بدیاں کہلاتی ہیں، ان باتوں کا حکم دیتے ہیں جو اکثر مذاہب کی رو سے نیکیاں کہلاتی ہیں یعنی انسانی سطح کی نیکیاں اور انسانی سطح کی بدیاں۔حقوق العباد سے تعلق رکھنے والی نیکیاں اور حقوق العباد سے تعلق رکھنے والی بدیاں۔ان امور میں تمام قوموں کے مصالح مشترک ہوتے ہیں ، ان کے مقاصد مشترک ہوتے ہیں۔ایک ہی وطن میں مختلف مذاہب کے ماننے والے بس رہے ہوتے ہیں لیکن یہ وہ قدر مشترک ہے جو ہر انسان کے درمیان پائی جاتی ہے اور مذہب کا اختلاف حائل نہیں ہوسکتا اس بات میں اس لئے نیک بات کی نصیحت کرنے کا جو ارشاد فرمایا ہے امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اس پر کوئی اعتراض یہ نہیں اٹھ سکتا کہ تمہارے تو عقائد مختلف ہیں مثلاً ہندوان کو یہ نہیں کہہ سکتے ، عیسائی ان کو یہ نہیں کہہ سکتے ، دنیا کے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا کوئی معقول انسان ان کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم ہمیں کیوں کہتے ہو کہ سچ بولو اور جھوٹ نہ بولو۔تم کیوں ہماری فکر کرتے ہو کہ ہم رشوت لیتے ہیں اور ہمیں رشوت سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہو؟ تم کیوں ہمارے پاس آتے ہو دردمند دلوں کے ساتھ کہ دنیا پر ظلم کرنا چھوڑ دو اور ہمیں ظلم سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہو؟ تمہارا مذ ہب اور ہے اور ہمارا مذہب اور ہے، تمہارا عقیدہ اور ہے اور ہمارا عقیدہ اور ہے۔کوئی معقول آدمی یہ نہیں کہہ سکتا۔دنیا کے پردہ پر دہر یہ بھی یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ دہریہ کے اندر بھی خدا تعالیٰ نے ایک اندرونی نظام (In built) نیکی اور بدی کی تمیز کا رکھ دیا ہے۔بعض باتیں ایسی ہیں جن کو دنیا کی ہر قوم بدی سمجھتی ہے، بعض باتیں ایسی ہیں جن کو دُنیا کی ہر قوم نیکی سمجھتی ہے اس لئے یہ وہ نصیحت ہے جس کا تعلق نہ مذہب کے اختلاف سے ہے نہ مذہب کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان یہ کوئی فرق کرتا ہے۔یہ نظام ایسا ہے جو عالمی نظام ہے نصیحت کا اور اس کی ضرورت بہت ہے۔اگر یہ نظام مٹ جائے تو جیسا کہ میں نے بیان کیا قرآن کریم مثالوں پر مثالیں دیتا پرانی قوموں کی ہے جو اس وجہ