خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 216

خطبات طاہر جلد ۳ 216 خطبه جمعه ۲۰ ر اپریل ۱۹۸۴ء وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اور بری باتوں سے روکتے چلے جاتے ہو۔وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ اور اللہ پر سچا ایمان رکھتے ہو وَلَوْ أَمَنَ أَهْلُ الكِتب كاش اہل کتاب بھی اگر ایمان لے آتے تو ان کے لئے بہتر تھا مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفُسِقُونَ۔کچھ اُن میں مومن بھی ہیں لیکن اکثر ان میں سے فاسق ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا قوموں کی زندگی سے بڑا گہرا تعلق ہے اور کوئی قوم بھی ان دو صفات کے بغیر لمبے عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتی۔بظاہر اس میں یہ تعلیم ہے کہ دوسروں کو نصیحت کرو، دوسروں کو بری باتوں سے روکو اور اچھی باتوں کا حکم دو لیکن اس تعریف کے اندر، اس حکم کے اندر ایک مخفی حکم ہے جس کا اس جماعت کی ذات سے بھی تعلق ہے جو اچھی باتوں کا حکم دیتی ہے اور بری باتوں سے روکتی ہے اور قرآن کریم نے دوسری جگہ اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے پہلی قوموں کی ہلاکت کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ انہوں نے یہ کام چھوڑ دیئے تھے اور آنحضور ﷺ نے بھی مختلف تمثیلات کے رنگ میں اس بات کو واضح فرمایا کہ وہ قو میں جو نیک باتوں کا حکم دینے سے رک جایا کرتی ہیں اور بری باتوں سے روکنے سے رک جایا کرتی ہیں وہ بالآخر ہلاک ہو جایا کرتی ہیں۔ایک کشتی کی مثال دے کر آپ نے واضح فرمایا کہ دیکھو اگر ایک ہی کشتی میں ایسے لوگ سوار ہوں جو نیک ہوں اور بچنا چاہتے ہوں اور ایسے لوگ بھی سوار ہوں جو بد ہوں اور جن کے مقدر میں ہلاکت لکھی ہو۔اگر وہ ہلاک ہونے والے کشتی میں سوراخ کر دیں تو وہ لوگ جن کو بچنا چاہئے جو نیک ہیں وہ ان کو باز نہ رکھیں اور ان کو سمجھا ئیں نہیں تو جب کشتی ڈوبے گی تو پھر نیک اور بد میں فرق نہیں کرے گی۔بہت ہی ایک عظیم الشان طرز بیان ہے حضور اکرم ﷺ کا جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر معاشرہ بد ہورہا ہواگر ماحول خراب ہو رہا ہو اور چند نیک لوگ یہ سمجھیں کہ ہمیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے لوگ تباہ ہوتے ہیں تو تباہ ہو جائیں ، ان کو یا د رکھنا چاہئے کہ جب قو میں تباہ ہوا کرتی ہیں تو اس وقت پھر نیک و بد کی تمیز نہیں رہا کرتی۔بعض عذاب ایسے ہیں جیسا کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ جو نیک و بد میں تمیز نہیں کرتے ، وہ قومی عذاب ہوتے ہیں اس لئے زندہ رہنے والی قوموں کے لئے ایک مجبوری ہے، اگر وہ زندہ رہنا چاہتی ہیں تو ان کا فرض ہے اپنی بقا کی خاطر وہ نیک کاموں کی نصیحتیں کرتی چلی جائیں اور برے کاموں سے روکتی چلی جائیں اور سارے معاشرے کی اصلاح کی ذمہ داری