خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 215
خطبات طاہر جلد ۳ 215 خطبه جمعه ۲۰ راپریل ۱۹۸۴ء ر بالمعروف نیز منافقت کے خلاف جہاد ( خطبه جمعه فرموده ۲۰ را پریل ۱۹۸۴ء بمقام بیت الذكر اسلام آباد، پاکستان ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَيْكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (ال عمران: ۱۰۵) كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَوْا مَنَ أَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ۔(ال عمران: ۱۱۱) اور پھر فرمایا: قرآن کریم کی جن دو آیات کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے ان میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تعلیم دی گئی ہے۔اور اس دوسری آیت میں امت محمد مصطفی ﷺ کے بہترین ہونے کی دلیل ہی یہ قائم فرمائی أُخْرِجَتْ لِلنَّاس وہ لوگوں کی بھلائی کے لئے ،ان کی بہتری کے لئے ، اُن کی خدمت کے لئے قائم کی گئی ہے اور اس خدمت کی بہترین مثال یہ بیان فرمائی تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ کہ اے امت محمدیہ اتم جو بہترین امت ہو اللہ کی نظر میں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ تم اچھی باتوں کی نصیحت کرتے ہو