خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 212
خطبات طاہر جلد ۳ 212 خطبه جمعه ۱۳ر اپریل ۱۹۸۴ء کو غیر احمدیوں نے پکڑا ہے اور انہوں نے پولیس کے سپر د کیا ہے اور سارے شہر میں ایک نہایت ہی دکھ کی لہر دوڑ گئی کہ ایک معصوم آدمی کو کیوں چھرا گھونپ دیا گیا؟ لیکن چونکہ علماء یہ کہہ رہے ہیں اور بعض جاہل عوام یہ سمجھتے ہیں کہ سب سے آسان سرٹیفیکٹ جنت کا یہ ہے کہ کسی اور کو مار دیا جائے قتل کر دیا جائے اس لئے چونکہ باقی نیکیوں کی توفیق نہیں ملتی یہ آسان نیکی کر دیتے ہیں۔لیکن ایک بات میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ قرآن کریم ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ شہید کرنے والے کبھی نہیں جیتے ہمیشہ شہید ہونے والے جیتا کرتے ہیں۔مال لوٹنے والوں کے اموالوں میں کبھی برکت نہیں پڑی ان کے اموال میں برکت پڑتی ہے جن کے خدا کی وجہ سے مال لوٹے جاتے ہیں۔پھل برباد کرنے والوں کے اپنے پھل مصائب کا شکار ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی محنتوں کے پھلوں سے محروم کر دیئے جایا کرتے ہیں اور خدا کی وجہ سے جن کے پھل برباد کر دیئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے پھلوں میں برکت دیتا ہے۔ہر وہ چیز جو خدا کی خاطر خدا کی ماننے والی قو میں لٹایا کرتی ہیں ہر اس چیز میں اللہ تعالیٰ برکت دیتا ہے۔پس جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمیں تو اپنے مقصد سے کوئی چیز ہٹا نہیں سکتی۔ہر دکھ ہمیں خدا سے اور زیادہ قریب کر دے گا۔چنانچہ میں جانتا ہوں کہ ہر شہادت کے بعد خوف کے خط نہیں آتے بلکہ یہ خط آتے ہیں منتیں لئے ہوئے کہ خدا کے لئے ہمارے لئے دعا کریں کہ اللہ ہمیں بھی شہادت کی توفیق عطا فرمائے۔جس قوم کی یہ حالت ہو اس قوم کو کون شکست دے سکتا ہے؟ کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔قرآن کریم فرماتا ہے: لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى حْيِي مَنْ حَيَّ عَ عَنْ بَيِّنَةِ (الانفال :۴۳) کہ دیکھو اس مقابلہ میں تو بینہ ہی جیتے گی۔جوروستم ، مظالم قبل و غارت ، آگئیں لگانا، اس اسلوب کے مقدر میں کبھی فتح لکھی ہی نہیں گئی۔جب بھی یہ چیزیں مذہبی معاملات میں دخل انداز ہوتی ہیں ، جب بھی مذاہب کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، آگئیں اور قتل و غارت اور اموال کا لوٹنا اور پھلوں کا نقصان، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمیشہ ان کے مقدر میں نا کا می لکھی جاتی ہے اور پھر جیتتا کون ہے اس کے لئے یہ دوسری آیت کھلے لفظوں میں ہمیں بتاتی ہے۔تيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةِ