خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 211
خطبات طاہر جلد ۳ 211 خطبہ جمعہ ۱۳ اپریل ۱۹۸۴ء صلى الله عروسه مصطفیٰ ! کہ تمہارا صبر قبول : را صبر قبول ہو گیا ہے درگاہ الہی میں اور جو صلوٰۃ کا جواب میں اور جو صلوٰۃ کا جواب تھا وہ اس طرح دے دیا۔ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ اے بندو! ایک وقت وہ تھا کہ تم صلوۃ بھیج رہے تھے تھے۔ اپنے خدا کے حضور اب خدا کی صلوۃ تم پر نازل ہو رہی ہیں۔ وہ ساری عبادتیں تم پر خدا تعالیٰ سے بے انتہا بڑھ کر لوٹ رہی ہیں ۔ یہ ہیں خوش خبریاں جن کا اس آیت میں ذکر ہے اور بعض لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں کہ ڈرایا جارہا ہے۔ اس میں ڈرانے کی کون سی بات ہے اس میں تو خوش خبریوں، کامیابیوں اور عظیم کامیابیوں کی بشارتیں دی گئی ہیں۔ پس جماعت احمد یہ بھی انہی الہی جماعتوں میں سے ۔ ہے جن کے اوپر بلاقصور ظلم کئے جاتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ تمام دنیا کے ہم خیر خواہ ہیں اس خیر خواہی کے نتیجے میں ظلم وستم کا سلوک کیا جاتا ہے ہمارے ساتھ۔ ہم دعائیں دے رہے ہوتے ہیں مخالف گالیاں دے رہے ہوتے ہیں، ہم سچائی سے کام لے رہے ہوتے ہیں وہ مسلسل جھوٹ پر جھوٹ بولتے چلے جاتے ہیں اور یہاں تک حالت ہو چکی ہے کہ اگر ہم جھوٹ کے جواب میں یہ لکھیں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو خدا کے واسطے قوم پر ظلم نہ کرو تو کہتے ہیں اچھا ! تم ہمیں اشتعال دلاتے ہو تم ہمارے جھوٹ کو جھوٹ کہہ رہے ہو۔ اس سے بڑا ظلم کیسے ہو سکتا ہے؟ تمہیں جرات کہ ہم جھوٹے الزام لگا ئیں اور تم انکار کر دو کہ یہ الزام درست نہیں۔ اس سے بڑھ کر حالت ہو سکتی کسی قوم کی ! اور کھلم کھلا جماعت احمد یہ کے خلاف اشتعال انگیزی کی تعلیم دی جارہی ہے سارے ملک میں ہر گھر لوٹنے کی تعلیم دی جا رہی ہے، مال لوٹنے کی تعلیم دی جا رہی ہے قتل و غارت کی تعلیم دی جارہی ہے اور ان سب سے زیادہ تکلیف دہ یہ کہ خدا کے گھر لوٹنے کی تعلیم دی جا رہی ہے اور ان کو برباد کرنے کی تعلیم دی جا رہی ہے ، ان کو منہدم کر دو ۔ اس کے نتیجہ میں بعض نادان بیچارے جن کو خود بھی علم نہیں ہوتا وہ ایسی حرکتیں کر بیٹھتے ہیں اور جگہ جگہ سے بشَی من الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ کی اطلاعیں آرہی ہیں ۔ ابھی پچھلے دنوں کچھ عرصہ پہلے سندھ میں ہمارے ایک بہت ہی ہر دلعزیز استاد جو سارے علاقہ میں بڑے ہی محبوب تھے۔ عبد الحکیم ابڑو وہ نہایت ہی ظالمانہ طور پر شہید کئے گئے تھے اور پرسوں یہ اطلاع آئی ہے کہ محراب پور کے پریزیڈنٹ چوہدری عبدالحمید صاحب کو بھی نہایت ظالمانہ طریق پر شہید کر دیا گیا ہے اور وہ ایک ایسے معصوم انسان، ایسے نیک دل اور بھلائی کرنے والے تھے کہ قاتل