خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 209

خطبات طاہر جلد ۳ 209 خطبه جمعه ۱۳ راپریل ۱۹۸۴ء انگیز کامل نظام ہے اسلام کا کہ ہر چیز ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔جب بندہ کو صلوۃ کا حکم دیا تو اس کا معنی یہ کر دیا خود ہی التحیات۔صلوۃ نام ہے تمہارے تحفوں کا اور یہ جاہل سے جاہل آدمی بھی جانتا ہے کہ تحفہ چنتے وقت انسان گندی چیز نہیں چنا کرتا ، اونی چیز نہیں چنا کرتا بلکہ بہترین چیز چتا ہے اور اس کی پیکنگ بھی بعض دفعہ بہت اچھی کرتا ہے، بہت خوبوصورت رنگ سجا کر پیش کرتا ہے۔تحفے کے اندر یہ بات داخل ہے سب سے اچھی چیز تحفہ ہو اور تحفہ ہر دوسرے مالی تبادلہ سے مختلف چیز ہے۔صدقہ دیتے وقت بعض لوگ جو یہ نہیں سمجھتے کہ خدا کی خاطر دے رہے ہیں وہ ادنی چیز چن لیا کرتے ہیں۔ٹیکس دیتے وقت لوگ کم سے کم دینے کی کوشش کرتے ہیں۔جب زمینوں کی حد بندی ہورہی ہو اور کوئی زمین دینی پڑے تو وہ کلر والاٹکڑا چنیں گے یا نا کارہ چنیں گے کہ یہ دے دیا جائے۔صرف ایک تحفہ ہے جس میں تحفہ دینے والا بہترین چیز چتا ہے اور اگر وہ بدترین چنے گا تو وہ تحفہ رہے گا ہی نہیں تحفہ کی ذات کے خلاف ہے یہ بات کہ گندی چیز دی جائے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ ایسے واقعات آنے والے ہیں کہ جن کے نتیجہ میں تمہیں صلوٰۃ کی ضرورت پڑے گی اور صلوٰۃ اس عبادت کو کہتے ہیں جو بہترین ہو جس میں انسانی زندگی کا بہترین حصہ شامل ہو، پیار اور محبت کے نتیجہ میں کی جائے اور تحفہ نے ہی یہ بات ہم پر روشن کر دی کہ عبادت قبول نہیں ہوسکتی جب تک اس میں محبت الہی نہ ہو کیونکہ تحفہ صرف محبت کے نتیجہ میں ہوتا ہے جبر کا اس میں کوئی پہلو نہیں ہے۔بیگار کا نام تو تحفہ نہیں رکھا جا سکتا۔ٹیکس کا نام تو تحفہ نہیں رکھا جاسکتا تحفہ تو ہے ہی وہ جو دل کو مجبور کر دے اور تکلیف بھی انسان اٹھائے تو اس میں مزہ حاصل کر رہا ہو۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی عبادت کرو کہ جس کی وجہ محبت الہی ہو۔اس عبادت میں تمہارا پیار جان ڈال دے، ایک زندگی پیدا کر دے اور ایسی حالت میں اپنے رب سے مدد مانگا کرو کہ تمہارا دل وفور محبت سے اس کے لئے اچھل رہا ہو۔بالصبر اور نماز پر صبر سے قائم ہو جاؤ۔کسی حالت میں بھی اس صلوۃ کی حالت کو نہیں چھوڑنا اور دوسرے معنی ہے اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ بظاہر اگر تمہاری دعا قبول نہ بھی ہوتی ہو تب بھی تم نے دعا نہیں چھوڑنی۔بظاہر تم یہ دیکھ رہے ہو کہ خدا تعالیٰ سے ہم مانگ رہے ہیں اور وہ نہیں دے رہا تو استَعِينُوا بِالصَّيْرِ کا مطلب یہ ہے کہ تم نے پیچھے نہیں ہلنا مانگتے چلے جانا ہے جیسا کہ بارہا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ اولیاء اللہ کی حکایات میں سے