خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 208
خطبات طاہر جلد۳ 208 خطبه جمعه ۱۳ راپریل ۱۹۸۴ء فرماتا ہے۔أُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت پانے والے ہیں۔یہ وہ کیفیت ہے جو ایک دائمی حالت کا نام ہے۔جب سے دنیا میں نبوت ظاہر ہوئی ہمیشہ سے یہ آیت یا اس آیت کا مضمون کارفرما رہا ہے۔ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جب کہ وہ لوگ جن کو خدا کی خاطر ظالموں کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ ناکام ہو گئے ہوں۔ان کے مقدر میں ہمیشہ کامیابی ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ نصیحت فرماتا ہے کہ تمہاری اپنی کوشش سے کچھ نہیں ہو سکے گا اس لئے ہم تمہیں یہ ہدایت دیتے ہیں کہ ہماری طرف رجوع کیا کروکثرت کے ساتھ ایسے حالات میں عبادت کو بھی بڑھا دو اور دعا کو بھی بڑھا دو کیونکہ مختلف انسان مختلف حالتوں پر ہوتے ہیں۔ہر شخص کی ایک جیسی ایمانی حالت نہیں ہوتی۔ہر شخص میں ایک جیسی صبر کی طاقت نہیں ہوتی اس لئے اس آیت کا عنوان خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے خطرات کے بیان سے يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ تمہارے اندر فی ذاتہ کوئی طاقت نہیں ہے۔نہ تمہیں صبر کا حوصلہ ہے، نہ تمہیں برداشت کی طاقت نہ تم دنیا کا مقابلہ کر سکتے ہو کیونکہ تم ایک کمزور جماعت ہو۔ایسی کمزور ہو کہ لوگ تمہیں ظلم وستم کا نشانہ بناتے ہیں طاقتور کو تو کوئی ظلم کا نشانہ نہیں بنایا کرتا۔اس کیفیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے استَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ ہم یہ حل تمہیں بتاتے ہیں کہ تم خدا سے مدد مانگنا۔صلوۃ کے ذریعہ اور صبر کے ذریعہ۔یہاں صلوۃ معنی ہے عبادت کرنا وہ چیز جو ہماری طرف سے خدا کی طرف جاتی ہے اور یہ معنے اس معنی کے بظاہر الٹ ہیں جب خدا صلوۃ بھیجتا ہے تو وہ عبادت تو نہیں کرتا بندہ کی وہ صلوۃ کے نتائج پیدا فرما تا ہے اس لئے وہاں بھی لفظ صلوۃ استعمال ہوتا ہے جب بندہ کو صلوٰۃ کی تاکید کی جاتی ہے تو یہ صلوۃ بالکل اور معنی بن جاتی ہے۔یہاں ہے عبادت کرنا، خدا کے حضور جھکنا، اپنا کچھ نہ رہنے دینا، سب کچھ اس کا بنادینا، اس سے پیار اور محبت کا تعلق جوڑنا اور اس کی تشریح نماز میں آنحضرت ﷺ نے ہمیں یہ بتائی جو التحیات میں ہم پڑھتے ہیں التحیات لِلهِ والصَّلواتُ والطيبات صلوت کیا چیزیں ہیں؟ یہ التحیات ہیں، یہ تھے ہیں۔صلوات میں بہترین کا مضمون وہاں بھی تھا جہاں خدا بندے پر صلوٰۃ نازل فرماتا ہے اور بہترین کا مضمون یہاں بھی ہے جہاں بندہ عبادت کے ذریعہ خدا کا قرب ڈھونڈتا ہے۔ایسا حیرت