خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 207
خطبات طاہر جلد ۳ 207 خطبه جمعه ۱۳ر اپریل ۱۹۸۴ء جاتے ہو۔تم ہمیں اس لئے ڈراتے ہو اس لئے ہم پر مظالم کرتے ہو کہ ہم اپنے خدا کو چھوڑ دیں اور تمہیں خدا تسلیم کرلیں ، تمہارے سامنے سر جھکا دیں لیکن یہ مصیبتیں ہمیں دور ہٹانے کی بجائے اور زیادہ اپنے رب کے قریب کر دیتی ہیں اور زیادہ ہم اپنے رب کی پناہ میں آجاتے ہیں۔تو إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ میں جو طرز بیان ہے وہ بہت پیاری ہے۔رُجِعُونَ فعل نہیں ہے بلکہ ایک اسم کی حالت میں اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔(جعُونَ کا معنی ہے ہماری تو فطرت یہ ہے اور ہماری زندگی کا یہ عادت حصہ بن چکی ہے کہ جب بھی ہمیں خدا کے نام پر ڈرایا جائے گا اور تکلیف پہنچائی جائے گی تو ہمارا رخ لا زم خدا ہی کی جانب ہو گا خدا سے دوری کی جانب کبھی نہیں ہوسکتا۔تو جس قوم کی یہ تقدیر ہو کہ ہر حالت اس کو اپنے مقصد کے قریب تر کر دے اور دور نہ کر سکے اس کو یہی کہا جائے گا کہ بَشِّرِ الصُّبِرِینَ۔اے محمد مصطفی علیہ اے میرے رسول ! خوشخبری دے دے صبر کرنے والوں کو کہ ان لوگوں کے مقدر میں کوئی گھاٹا اور کوئی نقصان نہیں ہے یعنی لوگوں کی کوششیں تو مقصد سے دور کیا کرتی ہیں یعنی دشمنوں کی کوششیں دنیا میں اپنے دشمنوں کو مقصد سے کر دیا کرتی ہیں اور یہ عجیب قوم ہے جن کی دشمنی جب بڑھتی ہے ان کو مقصد کے اور قریب کر دیتی ہے۔أو ليكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ صلوٰۃ بھیجتا ہے۔صل علی محمد جب آپ کہتے ہیں تو صلوٰۃ کا کیا معنی ہے؟ کبھی اس پر غور کریں۔ہر وہ چیز جو بہتر ہے، ہر وہ چیز جواللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور رحمت نازل ہوتی ہے اس کو صلوٰۃ کہا جاتا ہے ان معنوں میں تو آنحضرت ﷺ کی نسبت سے صلوۃ صلى الله کے معنی روشن ہوتے ہیں۔جب ہم کہتے ہیں صَلِّ عَلی محمد تو چونکہ آنحضرت ﷺ اپنے رب سے بہترین کے حق دار ہیں تو صلوٰۃ کے معنی یہ بنیں گے کہ اے خدا! تیری ساری کائنات میں جوسب سے اچھا ہے وہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کو عطا کر دے۔تو جب خدا یہ فرماتا ہے أوليْكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتٌ مِنْ رَّبِّهِمْ کہ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلوۃ نازل ہوتی ہے اور اس کی رحمت نازل ہوتی ہے تو اس کے معنی بھی یہ ہوں گے کہ دنیا تو ہر بری چیز ان کی طرف پھینک رہی ہوتی ہے اور خدا اور خدا کے فرشتے ہر اچھی چیز ان کے اوپر نازل فرمار ہے ہوتے ہیں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان پر صلوۃ بھیجتا ہے اور ان سے رحمت کا سلوک