خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 206
خطبات طاہر جلد ۳ 206 خطبه جمعه ۱۳ر اپریل ۱۹۸۴ء پاؤں اکھیڑ دے اور تم ان مقاصد سے پیچھے ہٹ جاؤ جن مقاصد کی خاطر تم دنیا میں ایک عظیم الشان الہی جہاد کا آغاز کر چکے ہوتے ہو۔تو صابر کا مطلب یہاں یہ ہوگا کہ نہ کوئی خوف اور نہ کوئی بھوک ، نہ کوئی مال کا نقصان اور نہ کوئی جان کا نقصان ان کو اپنے مقصد سے پیچھے کر سکتا ہے جو مرضی قیامت ٹوٹ جائے ان پر ان کا ہر قدم لازماً آگے بڑھتا ہے ان نیکیوں میں جن نیکیوں کی خاطر ان پر مظالم کئے جاتے ہیں، ان کے لئے بشارت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ہم بشارت دیتے ہیں کہ لامتناہی ترقیات ہیں۔الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ جب ان پر کوئی مصیبت ٹوٹتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں۔انا للہ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی وجہ سے ہم پر ایک مصیبت ٹوٹ رہی ہے۔اس کا نتیجہ کیا نکلے گاوَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہاں بھی اس کے دو معانی ہیں۔ایک معنی تو عام یہ کیا جاتا ہے کہ ہم اللہ کی طرف مرنے کے بعد لوٹ جائیں گے لیکن ہر مصیبت کے نتیجہ میں تو موت واقع نہیں ہوتی۔مصیبتیں تو کئی قسم کی خدا بیان فرما چکا ہے۔خوف کے نتیجہ میں تو فوراً انسان اللہ کی طرف لوٹ کر نہیں جایا کرتا یا بھوک کے نتیجہ میں ہر بھوکا مر تو نہیں جایا کرتا۔مال لٹنے سے تو نہیں سب مر جایا کرتے یہاں ہر مصیبت کے نتیجہ میں جب وہ کہتے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ تو اس کا کیا مطلب ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں تم مصیبتیں ہم پر اس لئے ڈال رہے ہو کہ ہم اپنے خدا سے دور ہٹ جائیں لیکن تمہاری عائد کردہ مصیبتیں ہمیں اور زیادہ خدا سے قریب کر دیتی ہیں۔ہم اپنے رب کی طرف اور تیزی کے ساتھ لوٹ جاتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک شعر میں دراصل اسی آیت کی تفسیر فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں: عدوّ جب بڑھ گیا شور وفغاں میں نہاں ہم ہوگئے یار نہاں میں ( در تمین صفحه: ۵۰) إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ کی ایک یہ غیر ہے کہ تم عجیب بیوقوف لوگ ہو کہ تمہاری ہر کوشش الٹ جاتی ہے۔ہر محنت اکارت جاتی ہے۔تم جو نتیجہ حاصل کرنا چاہتے ہو اس سے محروم رہ