خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 204
خطبات طاہر جلد۳ 204 خطبه جمعه ۱۳ را بپریل ۱۹۸۴ء ڈوبتے وہ موت کا شکار ہو جاتا ہے۔ٹھوکر لگتی ہے تو بعض لوگوں کی جان نکل جاتی ہے، دھما کا ہوتا ہے بعض لوگوں کی جان نکل جاتی ہے، بعض لوگ چھوٹی بیماریاں برداشت نہیں کر سکتے وہ چھوٹی بیماری سے جان دے دیتے ہیں ، بعض بڑی بیماری سے جان دے دیتے ہیں ، بعض چھوٹے جانور کے ڈسنے سے مارے جاتے ہیں۔چنانچہ ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں کہ بھڑ کاٹ گیا کسی کو اور اس کی جان نکل گئی۔تو بے شمار ہیں رستے موت کے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے ایک رستہ ہے میری رضا کی خاطر مرنا اور میں اپنی قوموں کو جو میرے ہو چکے ہوتے ہیں اس لحاظ سے بھی آزما تا ہوں کہ بعض دفعہ کوئی ان کا قصور نہیں ہوتا پھر بھی دشمن از راہ ظلم قتل کر دیتے ہیں۔وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوْا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (البروج : ٩-١٠) ان کی دشمنی کی وجہ کوئی اور نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ اللہ اور اللہ کی طرف سے آنے والوں پر ایمان لا چکے ہوتے ہیں۔یہی ایک دشمنی کی وجہ بن جاتی ہے۔تو ان آزمائشوں میں خدا تعالیٰ نے ایک وعدہ بھی دیا ہے اور ایک خوشخبری بھی دی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ڈرانے کی خاطر نہیں ہے یہ آیت بلکہ حوصلہ دلانے کی خاطر ہے۔اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ عام دنیا میں انسان اسی طرح زندہ رہتے ہیں کئی قسم کی مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی مصیبتیں تمہاری مصیبتوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔چنانچہ بشی کے لفظ نے یہ واضح فرما دیا کہ مذہبی قوموں کے مقابل پر غیر مذہبی قوموں کی مصیبتیں اور مشکلات بہت زیادہ ہوتی ہیں لیکن ان کا کوئی والی نہیں ہوتا۔ان کا متولی کوئی نہیں ہوتا۔مذہبی قوموں کا خدا والی ہوتا ہے اور ان کا ولی بن جاتا ہے اس لئے ان کو غیر مذہبی قوموں کے مقابل پر ہمیشہ کم نقصان پہنچتا ہے لیکن جو بھی نقصان پہنچتا ہے چونکہ رضائے باری تعالیٰ کی خاطر وہ برداشت کرتے ہیں اور اللہ کے نام پر ان کو نقصان پہنچایا جاتا ہے اس لئے اس نقصان کا بھی خدا کفیل ہو جایا کرتا ہے اور خدا ان کا وکیل بن جایا کرتا ہے اور ذمہ دار ہو جاتا ہے ان نقصانات کو پورا کرنے کا۔یہ خوشخبری دی گئی ہے چنانچہ آخر پر تیجہ نکالا وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ۔عجیب کلام ہے یہ ایک طرف ڈرانے کی باتیں ہو رہی ہیں مسلسل مضمون یہ خبر دے رہا ہے کہ ہم تمہیں خبر دیتے ہیں کہ تمہارے ساتھ کچھ ہونے والا ہے خوف کے حالات آنے والے ہیں، بھوک