خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 196

خطبات طاہر جلد ۳ 196 خطبه جمعه ۶ را بریل ۱۹۸۴ء کیسے ہوسکتا ہے کہ اپنے دلوں اور سینوں کو بھول جائیں اے خدا الَا تُزِغْ قُلُوبَنَا اے ہمارے رب یہ نہ ہو کہ ہم غیروں کی اصلاح کی فکر میں ہوں اور ہمارے دل بگڑ جائیں، ہمارے دلوں کوکسی حال میں بگڑنے نہیں دینا بَعْدَ اِ ذُهَدَيْتَنا اس واقعہ کے بعد کہ تو نے محض اپنے فضل سے ہمیں ہدایت عطا فرما دی ہے۔وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ہمیں تیری رحمت کی ضرورت ہے جو تیری طرف سے آئے یعنی صرف رحمتک نہیں فرمایا بلکہ مِن لَّدُنْكَ رَحْمَةٌ میں پیار کا اظہار ہے اور غیر کی نفی کی گئی ہے یعنی ہمیں کسی غیر کی رحمت کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔دنیا میں ہم پر کوئی رحم کھائے یا نہ کھائے ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا فرما۔اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ تو بہت ہی بار بار رحمت کے ساتھ رجوع فرمانے والا وجود ہے پس ہم پر رجوع برحمت ہو۔پس یہ وہ ہتھیار ہیں جو ہمارے ہتھیار ہیں۔کچھ احمدی ایسے ہیں جو تنگی ہو یا آسائش ہو، دن ہو یا رات ہو ہمیشہ مستعد رہتے ہیں۔امن کی حالت میں بھی وہ راتوں کو اٹھتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں اور ان کی یہ عادت فطرت ثانیہ بن چکی ہے لیکن قوم کا کچھ حصہ ایسا بھی ہوا کرتا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنے ہتھیاروں کو نکالتے اور صاف نہیں کرتے جب تک کہ خطرات سر پر منڈلانے نہ لگیں۔پس آج ایسا وقت ہے جماعت پر کہ ہر مردوزن ، ہر بوڑھے اور بچے کو اپنے ہتھیاروں کو اٹھا لینا چاہیئے اور صاف کرنا چاہئے اور چمکانا چاہئے اور جیسا کہ وقت خدا نے ہمیں عطا فرمایا ہے پانچ نمازوں کے علاوہ خصوصیت کے ساتھ راتوں کو تہجد میں اٹھ کر ان ہتھیاروں کو استعمال کریں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہے جو ان ہتھیاروں کا مقابلہ کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ پر میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔سب سے پہلے تو آپ فرماتے ہیں کہ میرا مقصد کیا ہے؟ یعنی جماعت کو متوجہ کرتے ہیں کہ اس مقصد کو کبھی نہ بھلانا۔وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا اور اس کی مخلوق کے رشتے میں جو کدورت واقع ہوگئی ہے اسے دُور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں: ”خدا نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تا میں حلم اور خلق اور نرمی سے گم گشتہ لوگوں کو خدا اور اس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں“۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۴۳۰)