خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 193

خطبات طاہر جلد ۳ 193 خطبه جمعه ۶ را بریل ۱۹۸۴ء رہتے ہیں، ہر گھر سے جو احمدیوں سے آباد ہے، ہر گالی کے جواب میں سبحان الله و بحمده سبحان اللہ العظیم کی آواز بلند ہو رہی ہوگی۔اور پھر جب حضرت مسیح موعود کو وہ گالیاں دیں گے تو آپ کا ہتھیار کیا ہے؟ آپ کہیں گے اللھم صل علی محمد و آل محمد و بارک وسلم انک حمید مجید۔اس کو کہتے ہیں مقابلہ کتنا شاندار مقابلہ ہونے والا ہے۔اس مقابلہ کے لئے آپ کو خوب Excite ہو جانا چاہئے۔خوب اچھی طرح تیار ہو جانا چاہئے۔پس آپ ہر گالی کے جواب میں درود بھیجیں حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کی آل پر اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ آپ کی آل کا سب سے زیادہ مستحق کو نسا وجود ہے؟ کون ہے جو آپ کی آل کہلانے کا سب سے زیادہ حق دار ہے؟ پس اللهم صل على محمد وال محمد ان گالیوں کے جواب ہے جو وہ حضرت مسیح موعود کو دیتے ہیں یا دیں گے۔پھر ان دو باتوں کے بعد یعنی تسبیح اور تحمید اور درود کے بعد پھر دوسری دعائیں ہیں، یہ بھی وہی ہتھیار ہیں جو قرآن کریم نے ہمیں سکھائے ہیں یا آنحضرت ﷺ نے ہمیں ان کی تربیت دی ہے۔دوسری دعا جس کو خصوصیت سے کرنا چاہئے وہ یہ ہے: يَا حَفِيظٌ يَا عَزِيزُ يَا رَفِيق کہ اے حفاظت کرنے والے ! ہم پر چاروں طرف سے حملہ ہو رہا ہے اور یہ حملہ تیرے نام پر ہو رہا ہے۔ہم کمزور ہیں لیکن جانتے ہیں کہ تو عزیز ہے، غالب ہے اور قدرت والا ہے اور تیرے مقابل پر کوئی جیت نہیں سکتا۔پس اے حفاظت کرنے والے! ہم تجھے پکار رہے ہیں اور اے غالب مقدرت والے خدا! ہم تجھے پکاررہے ہیں اور اسے رفیق ! اے ہمارے دوست اور ساتھی ہم تجھے پکاررہے ہیں تیرے سوا آج کوئی ہمارا دوست نہیں ہے اور کوئی نہیں جو ہمیں ان خطرات سے بچا سکے۔یا حی یا قیوم یہ زندگیاں لوٹنے کی تعلیم دے رہے ہیں مگر ہمارا تو تجھ سے تعلق ہے اے کی خدا! جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اور جس سے زندگی کے چشمے پھوٹتے ہیں ، وہ خود بھی قائم ہے اور دوسروں کو بھی قائم رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔اے قیوم ! ہم تجھ سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں تو ہمیں قائم رکھ اور تو ہمیں قیام بخش اور ہماری زندگی کو غیروں کے حملے سے بچا اور وہ اسے جتنا چھوٹا کرنا چاہتے ہیں تو اسے اتنا ہی لمبا کر دے کیونکہ تیری زندگی تو ہمیشہ کی زندگی ہے۔پس قومی لحاظ سے ہم جب ہم تجھ سے تعلق جوڑ لیتے ہیں تو ہماری زندگی بھی تیری زندگی جیسی ہو جانی چاہئے ، جس طرح تجھ پر فنا نہیں تیرے بندوں پر