خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 192
خطبات طاہر جلد ۳ 192 خطبه جمعه ۶ را بریل ۱۹۸۴ء آپ اختیار کرنی ہے؟ یہ ایک ایسی واضح اور کھلی بات ہے کہ اس میں کسی کو بتانے اور کہنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔جب بھی مقابلہ ہوگا آپ کے ہتھیار اور ہوں گے اور آپ کے دشمن کے ہتھیار اور ہوں گے۔اور دشمن کے ہتھیاروں کے ساتھ آپ نے ان کا جواب نہیں دینا بلکہ اپنے آقا ومولا محمد مصطفی ع کے ہتھیاروں کے ساتھ آپ نے دشمن کا جواب دینا ہے اور وہ ہتھیا رسب سے قوی اور سب سے مضبوط اور سب سے زیادہ گہرا اثر کرنے والے ہتھیار دعا ہی کے ہتھیار تھے۔پس میں جماعت کو خصوصیت کے ساتھ آج دعاؤں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔دیکھیں جب خطرات پیدا ہوتے ہیں تو لوگ سرحدوں کی حفاظت کیا کرتے ہیں۔جب خطرات پیدا ہوتے ہیں تو لوگ فوجوں کو تیار ہونے کا حکم دیتے ہیں، ان کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دیتے ہیں۔جب خطرات پیدا ہوتے ہیں تو قو میں توقع رکھتی ہیں کہ اپنے حقوق کو بھی چھوڑ دیں لوگ اور وقت کے لحاظ سے قربانی کریں۔پھر لوگ اپنے ہتھیاروں کو نکالتے ہیں ان کو مانجتے ہیں، ان کو صیقل کرتے ہیں، ان کو چمکاتے ہیں۔اگر پریکٹس چھوڑ دی تھی تو ان کو چلانے کی پریکٹس شروع کر دیتے ہیں۔ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے اگر اپنی حدود کا دفاع مقصود ہو تو یہی طریق ہے۔ہاں ہتھیار سب کے الگ الگ ہوتے ہیں۔ہمارے وہ کون سے ہتھیار ہیں جنہیں اب باہر نکال لینا چاہئے ؟ اگر پہلے نہیں نکلے ہوئے تھے ان کو بھی نکال لینا چاہئے جو ان سے غافل تھے اور اپنے صندوقوں میں بند کر کے ان کو رکھا ہوا تھا نکالیں اور ان کو چمکائیں اور ان کے استعمال کی پریکٹس شروع کریں۔اور یہ وہ ہتھیار ہیں جن کی سب سے زیادہ پریکٹس رات کو ہوا کرتی ہے تہجد کے وقت میں جب ساری دنیا سوئی ہوئی ہوتی ہے اس وقت مسلمان ریجمنٹیشن ہو جاتی ہے۔مسلمان فوجیں رات کو اپنے خدا کے حضور کھڑی ہو جاتی ہیں اور ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی خوب پریکٹس کرتی ہیں بڑی کثرت کے ساتھ ان کو استعمال کرتی ہیں اور پھر جب وقت آتا ہے تو یہی ہتھیار ان کے کام آتے ہیں اور مخالف کے سارے ہتھیار نا کام ہو جاتے ہیں۔چنانچہ ان ہتھیاروں میں سب سے بڑا اور سب سے اہم ہے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اللہ کی تحمید کرنا۔اب دیکھیں کتنا مزیدار مقابلہ ہو گا ہمارا، ایک طرف سے بڑی گندی گالیاں دی جارہی ہوں گی اور دوسری طرف سے سُبحَانَ الله و بحمدہ سبحان اللہ العظیم کی آوازیں بلند ہو رہی ہوں گی۔دن کو بھی اور رات کو بھی ، ہر شہر سے جہاں احمدی بستے ہیں، ہر گلی سے جہاں احمدی ،