خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 191

خطبات طاہر جلد ۳ 191 خطبه جمعه ۶ را پریل ۱۹۸۴ء کرنے کی تعلیم دی جارہی ہے اور دوسری طرف خدا اور اصلاح کے نام کے اوپر غیروں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی تعلیم دی جارہی ہے۔اب اس زمانہ میں اگر مقابلہ ہو جا تا تو بڑی دلچسپ صورت حال سامنے آتی۔کچھ لوگ اصلاح کے نام پر مسجد میں گراتے ہوئے مارے جاتے اور کچھ لوگ اصلاح کے نام پر مسجدوں کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے۔تو تاریخ کو کھول کھول کر خدا نے بیان فرما دیا اور فیصلہ انسان پر چھوڑ دیا کہ اتنی کھلی کھلی تصویر یں تمہارے سامنے ہیں ، عنوان کے پیچھے کیوں چلتے ہو؟ کیوں نہیں دیکھتے کہ ان عناوین کے تابع کیا تصویر میں بنائی جارہی ہیں ؟ ایک طرف نہایت مکروہ اور سیاہ اور تاریک اور گھناؤنی تصویر بن رہی ہے اور ایک طرف روشن روشن، اجلے اجلے منظر ہیں جو دن کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ایک طرف تحریروں میں تاریکی اور سیاہی ہے دوسری طرف کی تحریروں میں حسن ہے اور روشنی ہے اور خدا کا نور ہے، تو کیوں تم نہیں پہچانتے ؟ پس یہ مقابلے تو ہمیشہ سے ہوتے آئے ہیں اور ہمیشہ جاری رہیں گے۔نہ مخالفین نے اپنی اصلاح کا طریق کبھی بدلا ہے نہ ان سے توقع کی جاسکتی ہے۔نہ خدا کے نام پر آواز بلند کرنے والوں نے اپنا طریق کبھی ان کی وجہ سے بدلا ہے اور نہ ان سے توقع کی جاسکتی ہے۔اس تاریخ اور اس مقابلہ کا خلاصہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمایالَكُمْ دِينُكُمْ وَلِى دِيْنِ ) کا فرون: ۷) تمہارے لئے تمہارا دین ہے۔تم جو سمجھتے ہو کر ولیکن میرے دین کو تم تبدیل نہیں کر سکتے۔میرا دین ایک غیر مبدل دین ہے یعنی میرا چلنے کا طریق ، وہ مسلک جس پر میں قائم ہوں یہ مسلک ازل سے اسی طرح چلا آرہا ہے کبھی تبدیل نہیں ہو سکا۔کسی تلوار نے اس مسلک کو تبدیل نہیں کیا اور تمہاری طرز حیات ، تمہارا مسلک بھی ایک غیر مبدل مسلک ہے۔جب سے اللہ تعالیٰ نے نبوت کا آغاز فرمایا اس دنیا میں نبوت کے مخالفین ہمیشہ یہی طریق اختیار کرتے آئے۔پس قرآن کریم جس تاریخ کو بیان فرماتا ہے وہ ایک غیر مبدل تاریخ ہے اس میں کبھی کوئی تبدیلی آپ نہیں دیکھیں گے۔ایک اللہ کی سنت ہے اور ایک اللہ کے مخالفین کی سنت ہے۔اور دونوں سنتیں اپنی اپنی جگہ پر قائم چلی آرہی ہیں۔اس کے بعد انسان کا کام ہے یہ فیصلہ کرنا کہ دونوں میں سے صالح کون ہے مصلح کون ہے ، کون صلاح پر قائم ہے اور کون حقیقتا دوسرے کی اصلاح کر رہا ہے؟ پس جماعت احمدیہ کے لئے تو کوئی مشکل کام نہیں ہے۔یہ دو کھلی کھلی باتیں دیکھ کر اپنے لئے کون سی راہ