خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 190
خطبات طاہر جلد۳ 190 خطبه جمعه ۶ را بریل ۱۹۸۴ء ایسا مہذب بنایا اور ایسا ادب سکھایا کہ انہوں نے عمر بھر ایک ہی وطیرہ اختیار کئے رکھا کہ لوگوں کو نیک باتوں کا حکم دیا کرتے تھے اور بری باتوں سے روکتے تھے۔پس دیکھئے دونوں دعوے خدا کے نام پر تھے۔جبراً مذ ہب کو تبدیل کرنے کا دعویٰ بھی خدا کے نام پر تھا اور جبر امذ ہب کو تبدیل نہ کرنے کی ہدایت بھی خدا ہی کے نام پر تھی۔ایک طرف کہنے والے یہ کہتے تھے کہ ہم مصلح ہیں اور اصلاح کی وجہ سے ہمیں حق نصیب ہو گیا ہے کہ ہم جبراً ملتیں بدلنے والوں کو واپس ان میں لوٹا دیں اور ایک طرف خدا ہی کے نام پر ، اصلاح کے نام پر یہ اعلان ہو رہا تھا: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَكْفُرُبا لَمَّا غُوتِ وَيُؤْ مِنَ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا (البقره: ۲۵۷) کہ دین کے نام پر کوئی جبر نہیں چلے گا ، نہ اس طرف سے تمہاری جانب اور نہ تمہاری طرف سے ادھر ہماری جانب چلے گا اور اگر کوشش کرو گے تو ناکام رہے گا۔وہ لوگ جنہوں نے رشد کو پالیا ہو ان کے لئے ممکن ہی نہیں کہ رشد کو چھوڑ کر واپس لوٹ جائیں۔ایسے کڑے پر ان کا ہاتھ پڑ گیا ہے لَا انفِصَامَ لَھا جس سے علیحدگی ان کے مقدر میں نہیں ہے، ان کی طاقت میں نہیں رہی۔ناممکن ہے۔لَا انفِصَامَ لَهَا سے زیادہ قوت کے ساتھ اس مضمون کو بیان نہیں کیا جاسکتا گویا خدا فرما رہا ہے ناممکن ہے کہ یہ ہاتھ اس کڑے سے الگ ہو جائے جس کڑے پر ڈال دیا گیا ہے کیونکہ یہ رشد و ہدایت کا کڑا ہے۔تو دیکھئے اصلاح کے نام پر کتنی مختلف تعلیم دی جارہی ہے۔ایک طرف عبادت گاہوں کے منہدم کرنے کی تعلیم دی گئی اسلام کے نام پر اور ایک طرف آنحضور عل عیسائیوں کو یہ تحریر عطا فرما رہے تھے کہ فلاں جگہ کے عیسائی میری خدمت میں حاضر ہوئے ہیں میں ان کو ایک تحریر دیتا ہوں اور وہ تحریر یہ ہے کہ ان کی عبادت گاہ کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھے گا، ان کی صلیب کی حفاظت کی جائے گی اور اگر کسی نے ایسا نہ کیا تو اس کا میرے اور میرے خدا سے کوئی تعلق نہیں۔کتنا بڑا فرق ہے اصلاح کی دو آوازوں کے درمیان۔ایک طرف اصلاح کے نام پر عبادت گاہوں کو ملیا میٹ صلى الله