خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 189

خطبات طاہر جلد ۳ 189 خطبه جمعه ۶ را پریل ۱۹۸۴ء کے لئے جودشمنوں نے جو منصوبے بنائے اور تعلیم دی وہ یہ تھی کہ ان کو بزور شمشیر اپنی ملت میں واپس لے آؤ اس کے بغیر یہ مانیں گے نہیں ، ان کو گھروں سے نکال دو یا گھروں سمیت آگ لگا دو، ان کی کمائیاں لوٹ لو اور اپنی ہر ملکیت سے ان کو محروم کر دو، ان کے بائیکاٹ کرو ، ان کو فاقے کی سزائیں دو، ان کو پانی کے لئے تر ساؤ اور ان کے بچوں کو ذبح کرو اور ان کے بڑوں کو قتل کرو، ان کے گھروں کو ہی نہیں بلکہ خدا کے نام پر جو یہ گھر بناتے ہیں ان کو بھی منہدم کر دو اور ان کی عبادت گاہوں کو مٹا ڈالو تا کہ ان کو عبادت کرنے کے لئے کوئی جگہ نظر نہ آئے۔نَحْنُ مُصْلِحُونَ ہم اصلاح کی غرض سے کھڑے ہوئے ہیں اس لئے ہمارا فرض ہے اور ہمارا دین ہمیں مجبور کرتا ہے کہ اصلاح کے نام پر یہ ساری حرکتیں کریں۔اس کے مقابل پر خدا تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کو بھی ایک مقابلہ کا طریق سکھایا اور فرمایا: فَذَكَّرُ ۖ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرُةُ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُضَيْطِرِن إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَةٌ فَيُعَذِّبُهُ اللهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَةُ صد الله (الغاشیه آیت ۲۲-۲۵) اے محمد و اصلاح کے نام پر یہ سارے ہتھیار لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تیرے مقابلہ کے لئے۔یہ وہی ہتھیار ہیں جو پہلے بھی استعمال ہو چکے ہیں اور پہلے بھی ناکام ہو چکے ہیں اس لئے ہم تجھے یہ بتاتے ہیں کہ تو نے انبیاء کے ہتھیار کے سوا اور کوئی ہتھیار استعمال نہیں کرنا۔فَذَكِّرْ إِنَّمَا انْتَ مُذَكَّره تو مقابل پر نیک نصیحت کرتا چلا جا اور بڑی شدت سے کر۔جتنے زور سے یہ شور و غوغا بلند کرتے ہیں اتنا ہی زیادہ ان کو خدا کی طرف بلا اور دعوت الی اللہ دے۔إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّر تو تو بنایا ہی مُذَكِّر گیا ہے۔تیری تو سرشت ہی یہی ہے کہ تو نصیحت کرنے والا ہے۔تجھے تخلیق اس طرح کیا گیا ہے کہ تذکیر کے سوا تیرا اور کوئی مقام خدا نے مقرر نہیں فرمایا۔پس پیغام پہنچاتا چلا جا، نیک نصیحت کرتا چلا جا اور اپنے ماننے والوں کو بھی یہی ہدایت دے۔اسی مضمون کو قرآن کریم نے مختلف جگہ مختلف شکلوں میں بیان فرمایا: يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (التوبه : ۷۱) که محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کو خدا نے ایسی سرشت دی تھی ، ایسی فطرت عطا فرمائی تھی،