خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 188 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 188

خطبات طاہر جلد ۳ 188 خطبه جمعه ۶ را پریل ۱۹۸۴ء کی باتیں سنتے اور بعض اوقات کو فیصلہ کرنے کے اہل نہیں پاتے اپنے آپ ۔ وہ کہتے ہیں کہ دونوں وہی باتیں کرتے ہیں خدا کے نام پر اور مقدس لوگوں کے نام پر اور اصلاح کے نام پر اور امن کے نام پر اور دونوں ایک دوسرے سے اتنے دور اور اتنے مخالف اور اتنے متحارب ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کس کے پیچھے چلیں اور کس کے پیچھے نہ چلیں؟ ایسے ہی ایک مناظرے کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا اور جب ان کو کہا گیا کہ لا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ کہ دیکھو زمین میں فساد برپا نہ کروقَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ انہوں نے کہا کہ یقیناً ہم ہی تو ہیں وہ جو اصلاح کرنے والے ہیں لیکن تم الٹا ہمیں فساد کے طعنے دیتے ہو، ہم تو اصلاح کی غرض سے کھڑے ہوئے ہیں اور اصلاح کر کے دکھائیں گے۔ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ قرآن کریم فرماتا ہے ان کو جواب دو خبردار! وہی مفسدین ہیں وَلكِنْ لا يَشْعُرُونَ لیکن وہ سمجھتے نہیں ، اس بات کی عقل نہیں رکھتے ۔ تو معلوم یہ ہوا کہ لاشعوری طور پر بھی بعض دفعہ فساد کی تعلیم دی جاتی ہے یعنی بظاہر انسان بڑے زور اور قوت اور شدت کے ساتھ اصلاح کے دعوے کرتا ہے لیکن عملاً فساد کی تعلیم دے رہا ہوتا ہے۔ ان دو گروہوں کے درمیان ما بہ الامتیاز کیا ہے؟ کیسے پہچانا جائے کہ کون سا گر وہ واقعی مصلحین کا گروہ ہے اور کون سا گروہ فی الحقیقت مفسدین کا گروہ ہے؟ یہ ہے وہ سوال ہے جو ہمیشہ اٹھتا رہا اور آج بھی اسی قسم کا سوال دنیا کے سامنے درپیش ہے۔ قرآن کریم اس کا جواب مذاہب کی تاریخ کی شکل میں دیتا ہے، دلائل سے بڑھ کر گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے واقعات اور ان کے مخالفین کے واقعات کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور انسانی عقل پر یہ فیصلہ چھوڑ دیتا ہے کہ وہ پہچانے اور غور کرے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ دونوں میں سے مصلح کون ہے اور مفسد کون ہے۔ صلال آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ان دو مختلف دعاوی کی بڑے زور کے ساتھ لڑائی ہوئی ہے، علی بڑی شدت کے ساتھ کارزار گرم ہوا ہے اور دونوں طرف کی آواز میں دعوے کے لحاظ سے ایک تھیں صلى الله لیکن طریق کار کے لحاظ سے بالکل مختلف تھیں ۔ مثلاً آنحضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی اصلاح