خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 182
خطبات طاہر جلد ۳ 182 خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۸۴ء پچپن لاکھ کا اور ربوہ کا صرف ہیں لاکھ تھا تو اس لئے وہ چونکہ پہلے ہی اپنی ہمت سے بہت کم دے رہے تھے اس لئے ان کے کام میں نمایاں اضافہ نظر آیا لیکن اگر آپ ملحوظ بھی رکھیں اس فرق کو تب بھی گزشتہ سال ربوہ کی قربانی ان سب شہروں سے زیادہ ہے کیونکہ کراچی کی گزشتہ سال کی وصولی ڈیڑھ کروڑ بجٹ کے مقابل پر نو لاکھ ہے اور لاہور کی وصولی تر اسی لاکھ بجٹ کے مقابل پر سات لاکھ ہے۔ اس لحاظ سے ربوہ کی وصولی تیرہ لاکھ فی ذاتہ بھی خدا کے فضل سے بہت نمایاں اور قابل تحسین ہے۔ اللہ تعالی اس جماعت کو جزادے اور توفیق کے مطابق مزید آگے بڑھنے کی توفیق بخشے کیونکہ ابھی ربوہ میں گنجائش بہر حال موجود ہے ۔ جہاں تک کراچی کا تعلق ہے یہ خیال ہو سکتا ہے کہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد کا بجٹ ان کی توفیق سے زیادہ تو نہیں کیونکہ باقی جو جماعتیں اس سائز کی ہیں ان کے وعدوں کے مقابل پر کراچی کے وعدے یقیناً بہت زیادہ ہیں اس لئے یہ وہم ہو سکتا ہے کہ شاید کراچی جوش میں آکر زیادہ وعدے لکھوا گیا ہو اور اب اس کی توفیق نہ ہو ادائیگی کی لیکن میرے نزدیک یہ محض وہم ہے اللہ تعالیٰ کا جماعت احمد یہ کے ساتھ جو سلوک ہے وہ عام حسابی قاعدوں سے نہیں پر کھا جا سکتا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیب سے آخری پیسہ نکل آیا ہے اور پھر جب خدا تعالیٰ کا نظام جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے تو پھر جیب بھری ہوئی مل جاتی ہے پھر آپ نچوڑ لیں سب کچھ پھر خدا تعالیٰ کا نظام جب دوبارہ ہاتھ ڈالتا ہے تو پھر جیب بھری ہوئی مل جاتی ہے۔ کون سا قاعدہ کام کر رہا ہے یہ ہم نہیں جانتے ہمیں تو اتنا علم ہے کہ کچھ اسی قسم کا قاعدہ ہے جس طرح آنحضرت ﷺ علوسه صلى الله کی جنگ خندق کے موقع پر ایک صحابی نے اور اس کی بیگم بیگم۔ نے دعوت کی اور پتہ تھا کہ بہت دیر کا فاقہ ہے تو انہوں نے یہ سوچا کہ چند آدمی آنحضور علی کے ساتھ آجائیں اور ایک چھوٹا سا بکرا ذبح ہوا ہے دس بارہ آدمیوں کے لئے کافی ہو جائے گا تو انہوں نے اشارہ سے، ہلکی سی آواز میں حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! کچھ تیار ہے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لائیں تو آنحضرت ﷺ کا دل تو ایک نہ ختم ہونے والا سمندر تھا اور ساری کائنات پر آپ کی رحمت محیط تھی ، یہ کیسے ممکن تھا کہ فاقے کے وقت باقی لشکر کو چھوڑ دیتے اور صرف آپ چند صحابہ کے ساتھ چلے جاتے۔ آپ نے فرمایا اچھا اعلان کر دو کہ جس جس کو بھوک لگی ہوئی ہے سارے آجائیں اور وہ سارے بھوکے تھے یہ بات سن کر وہ وہ بہت پریشان ہو کر واپس دوڑا اپنی بیگم کی کی طرف ۔ صلى الله صلى الله