خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 175
خطبات طاہر جلد ۳ 175 خطبه جمعه ۳۰ / مارچ ۱۹۸۴ء زندگی کا مزہ اب آیا ہے اور پہلے تو یوں لگتا تھا کہ کام سے فارغ ہو کر موت کا انتظار ہے ،اب ایک بالکل نئی زندگی ملی ہے جو پہلی زندگی سے بہت بہتر ہے اور بہت زیادہ پر لطف ہے۔اسی طرح ہمارا ایک نیا شعبہ قائم ہوا ہے اعداد و شمارا کھٹے کرنے کا سمعی و بصری شعبہ ہے تحریک جدید میں، تمام دنیا کے کوائف کو چارٹس کی صورت میں ڈھالنا۔اس میں مشتاق احمد صاحب شائق ہیں مثلاً ، واقف زندگی، بہت ہی اچھا کام ہو رہا ہے ان سب شعبوں میں اور مزید ضرورت محسوس ہو رہی ہے یعنی پہلے لگتا تھا کہ یہ سٹاف کافی ہو جائے گا اب جو کام پھیلا ہے تو اور بہت سے ماہرین کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے فن میں دین کی خدمت کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔امور عامہ کا کام بھی بہت بڑھ گیا، فضل عمر ہسپتال امور عامہ کے ساتھ منسلک ہے اس میں بھی بہت سی نئی آسامیوں کے اضافے ہوئے ہیں بکثرت اور تعمیرات بھی نئی ہو رہی ہیں اور بہت زیادہ اس کی وسعت ابھی پیش نظر ہے، کئی نئے شعبے اس میں قائم کرنے میں تو ڈاکٹر ز کی بھی ضرورت ہے، کمپوڈرز کی بھی ضرورت ہے کلینیکل ٹیسٹ کرنے والوں کی بھی ضرورت ہے،نرسز کی بھی ضرورت ہے ، لیڈی ڈاکٹر ز کی ضرورت ہے۔امور عامہ کے ساتھ جو کام وابستہ ہیں خدمت خلق کے وہ اتنے زیادہ ہیں کہ اب صدرانجمن نے یہ مشور دیا ہے کہ ایک نظارت خدمت خلق الگ قائم کی جائے اور وہ نظارت کے کام جوان کے پیش نظر ہیں وہی اتنے زیادہ ہیں کہ ایک بہت اچھی خاصی مضبوط نظارت قائم کرنی پڑے گی تو ایک نظارت کے لئے پھر نیا سٹاف چاہئے ہوگا۔شعبه زود نویسی کا کام بہت بڑھ گیا ہے پہلے سے تعمیرات کے لئے ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا تھا، کئی واقفین بھی اس میں آئے لیکن اب محسوس ہو رہا ہے کہ اور بہت سے خدمت کرنے والوں کی ضرورت ہے ریٹائر ڈ انجینئرز ، اوور سئیر ز ، نقشہ بنانے والے۔غرض یہ کہ ہر طرف نظر ڈال کے دیکھیں تو کام پھیلتا چلا جا رہا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا غیر معمولی احسان ہے جماعت کے اوپر کہ وہ ہمارے کام بڑھا رہا ہے تو اس کے لئے واقفین چاہئیں اگر کسی شخص کے حالات ایسے ہوں کہ وہ کلیہ سو فیصدی رضا کارانہ وقف نہ کر سکتا ہو تو ہمارا طریق کار یہ ہے کہ حسب حالات ان سے معاملہ طے کر لیتے ہیں۔بعض ایسے واقفین ہیں جو کہتے ہیں میں حاضر ہو جاتا ہوں لیکن دو جگہ خاندانوں کے