خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 174
خطبات طاہر جلد ۳ 174 خطبه جمعه ۳۰ / مارچ ۱۹۸۴ء خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت بڑی تعداد نے اپنے آپ کو پیش کیا اور یوں لگتا تھا کہ وہ ضرورت سے بڑھ جائے گی تعداد اور جب ان کو مختلف شعبوں میں لگایا گیا تو معلوم یہ ہوا کہ شعبے آنے والوں کی تعداد کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیلنے لگے۔صدر انجمن میں ہی مثلاً اس سال تصنیف واشاعت کا کام بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، ان کو نئے آدمی بھی دیئے لیکن پھر بھی ابھی ضرورت پھیلتی چلی جا رہی ہے۔تعلیم کا جو کام زیر نظر ہے اس کے پیش نظر موجودہ اسٹاف کام نہیں کر سکتا۔پورا نہیں اتر سکتا اس کام پر اور چند مہینے کے اندراندر ایسے واقفین کی ضرورت پڑے گی جو تعلیم کے ماہرین ہوں۔جہاں تک مستورات کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے پانچ واقفات مل گئیں ہیں جنہوں نے بچیوں کو تعلیم دینے کے سلسلہ میں اپنے نام پیش کئے ہیں اور پانچوں نے ساتھ یہ لکھا ہے کہ ہم خالصہ رضا کارانہ کام کریں گی اور اگر ہمیں کہا جائے تو فوری طور پر استعفیٰ دے کر بھی آنے کے لئے تیار ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خواتین میں بھی جذ بہ بہت ہی بڑھتا چلا جارہا ہے خدمت کا لیکن لڑکوں کے سکولوں کے لئے ، اور بہت سے ایسے کام زیر نظر ہیں جن کے لئے اسی طرح ایسے اساتذہ کی ضرورت ہوگی پروفیسرز کی ضرورت ہوگی جو دنیا میں اپنے کام کرنے کے بعد یہ محسوس کریں کہ اب کافی ہوگئی اب ہمیں بقیہ زندگی خدا تعالیٰ کی خاطر خالصہ وقف کر دینی چاہئے۔ایک وقت تک انسان کے لئے دنیا کمانا بھی ضروری ہے انہی لوگوں کا پیسہ پھر سلسلہ کو بھی ملتا ہے اور پھر کئی طرح سے فائدے پہنچتے ہیں لیکن بہت سے ایسے طبقے ہیں جن میں ایک عرصہ تک خدمت ، دنیا کمانے کے بعد پھر اتنا پس انداز کر لیتے ہیں اور بعض دفعہ ان کو نئے ذرائع آمدمل جاتے ہیں ، بعض دفعہ فارغ ہو جاتے ہیں بچوں سے اور جو پنشن ہے وہی کافی ہو جاتی ہے بقیہ وقت کے لئے تو ایسے لوگ میرے پیش نظر ہیں وہ بآسانی بقیہ وقت خالصہ اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں اور اب تک جنھوں نے کیا ہے ان کا معیار خدا کے فضل سے بہت ہی بلند ہے۔پرائیوٹ سیکرٹری میں بھی کام بہت وسعت پذیر ہے اور بہت سے کاموں کا بوجھ واقفین نے اٹھایا ہوا ہے اور باوجود اس کے ایک دمٹری بھی سلسلہ سے وہ نہیں لے رہے، کام وہ اتنا کرتے ہیں کہ بعض دفعہ وہ راتوں کو گھر کام لے جاتے ہیں اور وہاں جا کر بہت دیر تک گھروں پر بھی ان کو کام کرنا پڑتا ہے لیکن ان کا رد عمل یہ ہے اس کام کے نتیجہ میں کہ بعض نے ہمیں کہا کہ واقعہ یہ ہے کہ ہمیں