خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 169
خطبات طاہر جلد ۳ 169 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء ادھر بات ہوئی ادھر اس کا نتیجہ نکل آیا بلکہ وہ نہایت ہوشیاری اور حمل کے ساتھ ، یعنی علم کے اندر یہ دو باتیں پائی جاتی ہیں، ہوشیاری بھی ہے اور تحمل بھی ہے۔حمل بریکوں کا کام دیتا ہے یعنی جس طرح لگام ڈالی جاتی ہے گھوڑے کو ، اس لئے ڈالی جاتی ہے کہ وہ بھاگتے بھاگتے کہیں حد سے زیادہ آگے نہ نکل جائے، ٹکریں ہی نہ مارتا پھرے کہیں، لگام کے مقابل پر مہمیز ہوتی ہے جو اس کو آگے دوڑاتی ہے تو جب جذبات انسان کے اندر داخل ہوتے ہیں تو وہ مہمیز کا کام دیتے ہیں۔ہمیشہ انسان کی قوت متحر کہ میں سب سے بڑا کر دار اس کے جذبات ادا کرتے ہیں جب یہ غالب آجا ئیں تو بے نیاز ہو جاتا ہے کہ اس پر کیا گزرے گی؟ اس لئے جو محبت میں دیوانے ہو جاتے ہیں ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی اُن کا وجود مٹ جائے اس راہ میں کیونکہ جذبات کی مہمیز بہت سخت ہوتی ہے اور علم کیا کرتا ہے؟ حلم لگام دیتا ہے اور ایک متوازن سواری بنا دیتا ہے۔جتنی تیز رفتار سواری ہو اتنی ہی مضبوط لگام ضروری ہے۔جتنی تیز رفتار موٹر ہوگی اتنی ہی اچھی اس کے لئے ڈسک بریکیں ہوں گی اور اعلیٰ انتظام ہوں گے کہ وقت کے اوپر رک بھی سکے۔تو حلم اور جذبات کا یہی وہ جوڑ ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس فقرے میں ظاہر فرمایا وہ نہایت ہوشیاری اور تحمل کے ساتھ نصرت دین کے لئے تیار رہتا ہے“ یعنی بے قرار ہر وقت رہتا ہے کہ میں ہر موقع پر خدا کے دین کی خدمت کروں دعوت الی اللہ سے باز نہیں آتا لیکن جاہلوں کی طرح جھٹکا دے کر نہیں کام کرتا بلکہ موقع اور تیل کی مناسبت کے ساتھ بہر حال وہ رکتا نہیں ہے لیکن اس میں ہوشیاری پیدا ہو جاتی ہے۔اس میں تحمل پیدا ہو جاتا ہے اور بز دل نہیں ہوتا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا جب انسان رکتا ہے کسی حرکت سے تو وہ بزدلی کے نتیجہ میں بھی رک سکتا ہے اور حلم کے نتیجہ میں بھی رک سکتا ہے۔آنحضرت علیہ نے واضح فرمایا مضمون کو کہ مومن بزدلی کے نتیجہ میں باز نہیں آیا کرتا حلم کے نتیجہ میں باز آتا ہے۔تو کوئی غلطی سے مومن کو یہ نہ سمجھ لے کہیں کہ وہ بڑا ڈرپوک ہے ہم نے اتنی گالیاں دیں اتنا مارا کوٹا اتنی آگیں لگانے کی تعلیم دی اتنے انکے بزرگوں کی تحقیر کی اور انکو ذلیل ورسوا قرار دیا اس کے باوجود یہ ہاتھ ہی نہیں اٹھا ر ہا سامنے سے۔تو کوئی غلط فہمی میں مومن کے بارے میں مبتلا نہ ہو جائے مومن کا وہ تصور جو قرآن اور حدیث پیش کر رہے ہیں وہ تو ایک بہت عظیم الشان تصور ہے، مومن اپنے مقصد سے باز نہیں آئے گا، اگر بزدل ہوتا تو تمہارے ڈراوؤں اور تمہاری دھمکیوں کے نتیجہ میں اپنے مقصد سے باز آجاتا، کسی