خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 167
خطبات طاہر جلد ۳ 167 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء اس لئے اُس نے بخش کا وعدہ کر لیا لیکن حلیم کا اس مضمون میں کیا تعلق ہے؟ یہ ہے گفتگو ، قابل غور بات یہ سامنے آنی چاہئے کہ اواہ کی جو آپ کو سمجھ آگئی کہ بہت ہی نرم دل تھا اپنے باپ سے اس نے وعدہ کر لیا کہ میں استغفار کروں گا تو حلیم نے ہمیں یہاں کیا مضمون سکھایا ؟ اصل میں کوئی صفت بھی فی ذاتہ اچھی یا بری نہیں کہلا سکتی جب تک اس کے ارد گرد کی صفات پر غور کر کے اس کے جوڑ کا مشاہدہ نہ کیا جائے کہ اس کا اور صفات سے کیا تعلق ہے۔اب نرم دلی فی ذاتہ اگر رشد سے خالی ہو ، اگر عقل سے خالی ہو جائے تو وہ جانوروں کی طرح کی ایک کمزوری ہے اس سے زیادہ اس میں کوئی حسن نہیں ہے۔موقع بے موقع ہر محل پر انسان نرم دل ہوتا چلا جائے تو یہ تو ایک کمزوری ہے یہ حسن ہے ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ یہ بیان فرمانا چاہتا ہے کہ ابراہیم کو اپنے باپ سے محبت تھی وہ بڑا نرم دل تھا اس کے باوجود وہ صاحب رشد تھا اور اس وجہ سے وہ قابل تعریف تھا۔کہ موقع ومحل کے لحاظ سے اس کی نرمی ایک عزم میں تبدیل ہو جاتی تھی جو بظاہر سختی سے نظر آتی تھی۔جب اس کی دل کی نرمی اپنے باپ کے لئے تھی تو اس وجہ سے تھی کہ اس کو پورا علم نہیں تھا کہ یہ میرے محبوب کا دشمن ہے۔وہ جہالت کا حق دے رہے ہوں گے وہ اور کئی قسم کی ان کے اوپر حسن ظنیاں کر کے پردے ڈال رہے ہوں گے اور دل کی نرمی کے ساتھ یہ وعدہ کرلیا کہ میں اس کے لئے استغفار کروں گا۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کو روشن فرمایا کہ یہ شخص ایسا ہے جس پر حجت تمام ہو چکی ہے اس کو کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔جسکو کہتے ہیں Committed Enemy) یہ واضح بین طور پر اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے تو وہاں رشد دل کی نرمی پر غالب آگئی دل کی نرمی رشد پر غالب نہیں آئی۔یعنی رشد ایسی عقل کو کہتے ہیں جو جذبات کے تابع نہیں ہوتی اور جذبات اس کے تابع ہوتے ہیں اور جب وہ جذبات کو تابع کرتی ہے تو جذبات میں حسن پیدا کر دیتی ہے بجائے اس کے کہ ان کو گندا کر دے یا ان کے اندر ایک نا مناسب رنگ داخل کر دے۔تو دل کی نرمی تب حسن بنتی ہے اگر اس کا حلم کے ساتھ جوڑ ہوا گر حلم کے ساتھ جوڑ نہ تو دل کی نرمی ایک جہالت بن جائے گی ایک نہایت ہی بدصورت چیز بن جائے گی کہ ایک طرف ایک اعلیٰ ذات ہے اور اسکی دشمنی ہے ایک وجود کو اور جو وجود اس محبوب کا دشمن ہے جو ایک بہت