خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 160

خطبات طاہر جلد ۳ 160 خطبه جمعه ۲۳ مارچ ۱۹۸۴ء بعض لحاظ سے انسانی شعور سے زیادہ باریک ہے اور حیرت انگیز وسعتیں رکھتا ہے۔ مثلاً یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر ایک پودے کے سامنے ایک قتل ہو تو وہ پودا اس قاتل کے معاملے میں اتنا شدیدردعمل رکھتا ہے کہ اگر دوبارہ وہ قاتل اس کے سامنے آئے اور باریک بجلی کے آلات سے جو پودے پر لگا دیئے گئے ہوں یہ معلوم کرنا چاہے انسان کہ مختلف آدمی اس کے سامنے سے گزرتے رہے ہیں اُن میں سے قاتل کون ہے تو جب بھی قاتل سامنے آئے گا وہ پودار دعمل دکھائے گا۔ کس حد تک یہ درست ہے اور کس حد تک یقینی بات ہے اس میں ابھی بہت سی تحقیق کی گنجائش موجود ہے لیکن بعض کام کرنے والے جنہوں نے ساری زندگی اس پر صرف کی ہے وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ پودا جھوٹے آدمی کو سچے آدمی سے الگ کر کے پہچان لیتا ہے۔ تو بہر حال شعور کے بارہ میں انسان کا شعور اس طرح ترقی کرتا رہا کہ اپنے سوا غیر انسانوں کے شعور کے متعلق بھی احساس بڑھا اور وسعت پذیر ہوا اور غیر انسانوں کے متعلق یعنی جانداروں کے متعلق بھی اس کا شعور بڑھا اور وسعت پذیر ہوا یہاں تک کہ وہ نباتات کی حد میں داخل ہو گیا اور اب یہ تسلیم کرتا ہے کہ نباتات میں بھی شعور موجود ہے اور ہرگز بعید نہیں اور جیسا کہ قرآن کریم کی آیت سے ثابت ہوتا ہے آخر انسان اس نتیجے پر پہنچے کہ کائنات میں کوئی چیز بھی شعور سے کلیتہ خالی نہیں ۔ ہاں شعور کے مراتب ہیں اور درجے ہیں جس کو ہم بے جان چیز سمجھتے ہیں وہ شعور کے ادنی درجہ پر واقع ہیں لیکن شعور سے خالی نہیں اور ہر ایک باشعور اپنے شعور کے دائرہ کے مطابق تسبیح کر رہا ہے اللہ تعالیٰ کی اس دائرے کے مطابق اس کی حمد بیان کر رہا ہے۔ تو ایک تو اس آیت کے یہ معنی ہیں ۔ اور دوسرے یہ معانی کہ زبانِ حال سے ہر چیز خدا تعالیٰ کی حمد بیان کر رہی ہے یعنی خدا تعالیٰ نے جو صنعت پیدا فرمائی ہے وہ اتنی حیرت انگیز ہے کہ وہ صنعت صانع کے حسن صنعت کی طرف دلالت کرتی ہے ۔ وہ صنعت اپنے وجود سے خدا تعالیٰ کی تسبیح بھی کر رہی ہے اور اس کی حمد بھی بیان کر رہی ہے اور ایک بھی خدا کی صنعت ایسی نہیں جس میں یہ دو باتیں نہ پائی جاتی ہوں کہ وہ گواہی دے رہی ہو کہ میرا خالق تمام نقائص سے پاک ہے اور میرا خالق تمام صفات حسنہ سے متصف ہے۔ اس معاملہ میں بھی انسانی تحقیق نے حیرت انگیز چیزیں دریافت کی ہیں اور بہت سے جانوروں کے متعلق جو تحقیق ہو رہی ہے اس سے انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ ہر جانور ایک عظیم الشان جہان