خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 155 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 155

خطبات طاہر جلد ۳ 155 خطبه جمعه ۱۶ / مارچ ۱۹۸۴ء مستحق ٹھہرائے گا ( سنن ترندی کتاب البر والصلہ عن رسول الله له باب فی كظم الغيظ۔یعنی صرف غصہ دو طرح کے نتائج پیدا کرتا ہے ایک غصہ کی حالت تو یہ ہو جاتی ہے کہ پھر انسان کہتا ہے جو بھی ہو میں کر گزروں گا۔کمزور ہو تب بھی وہ مٹ جانے کا فیصلہ کر لیتا ہے اور مضبوط ظالم پر بھی ہاتھ ڈال بیٹھتا ہے اور ایک غصہ کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ جسکو غصہ دلایا جائے وہ طاقتور بھی ہو یا بدلے کی طاقت رکھتا ہو ویسے طاقتور ہو یا نہ ہو کم سے کم اس وقت کسی پہلو سے بدلہ کی طاقت رکھتا ہو مثلاً ایک کمزور آدمی کو ایک طاقتور آدمی گالی دے دے تو اتنی طاقت تو اس میں بہر حال ہے بیچارے میں کہ وہ گالی آگے سے دے دے اور زیادہ موٹی گالی دے دے پھر اسکو مار پڑے جتنی چاہے پڑ جائے اس کا دل اس گالی سے بعض دفعہ اتنا ٹھنڈا ہو جاتا ہے کہ وہ مارنے والا مارنے کی طاقت ہونے کے باوجود بھی اتنا غصہ نہیں اپنا نکال سکتا جتنا وہ کمز ور زیادہ سخت اور زیادہ موقع کی لگتی ہوئی گالی دے دے اس کو۔تو غصہ جو ہے بعض دفعہ کمزوروں کو بھی ایسی بات پر آمادہ کر دیتا ہے کہ کمزوری کے باوجود وہ بدلہ لے لیتے ہیں۔اسی قسم کا ایک لطیفہ بھی آتا ہے کہ ایک بہت مضبوط موٹا تازہ پہلوان اکھاڑے سے آرہا تھا چپڑا ہوا سارا جسم تیل سے اور ٹنڈ کروائی ہوئی چمکتی ہوئی، سرمنڈایا ہوا اور اوپر تیل ملا ہوا تو ایک کمزور سا بیچارہ آدمی دبلا پتلا جا رہا تھاوہ اس نے پیچھے سے اچھل کر اس کے سر پر ٹھنگا مار دیا، اس نے جو مڑ کر دیکھا تو اس کو اور بھی غصہ آیا کہ کوئی مقابل کا ہوتا تو اور بات تھی اسکو جرات؟ اس نے اسکولٹا کر مارنا شروع کیا تو اس نے آگے سے جواب دیا کہ پہلوان جی بہن جتنا مرضی گٹ لو جو مینوں ٹھونگے دا سواد آ گیا او توانوں نہیں آسکدا۔مارلو جتنا مارنا ہے جو مزہ آیا ہے نا اس ٹھونگے کا وہ اور ہی مزہ ہے۔تو کمزور بھی بعض دفعہ غصے پر ضبط نہ کرے تو ایسی بات کہہ دیتا ہے کہ جو مزہ اس کو آجاتا ہے وہ دوسرے کو آ ہی نہیں سکتا پھر۔تو حلیم وہ ہوتا ہے کہ ہر حالت میں ضبط کرتا ہے۔اسکو مزہ لینے کے مواقع ہوتے ہیں لیکن وہ رک جاتا ہے اس فراست کو ، اس عقل کو حلم کہا جاتا ہے۔موقع ہو اور پھر انسان باز آجائے اور اس کی عقل قائم رہے اور غصے سے مغلوب نہ ہو جائے۔آنحضرت ﷺے اس کو یہ خوش خبری دے رہے ہیں فرماتے ہیں تمہارے لئے یہ خوش خبری ہے کہ قیامت کے دن سر میدان خدا تمہیں بلائے گا اور بطور خاص تمہیں انعام عطا فرمائے گا کیونکہ یہ صفت ایک غیر معمولی صفت ہے اس لئے انعام بھی غیر معمولی ہونا چاہئے ، ہر انسان میں یہ صفت نہیں پائی جاتی بڑا عزم چاہئے اس بات کے لئے کہ انسان حلیم ہو