خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 154

خطبات طاہر جلد۳ 154 خطبه جمعه ۱۶ / مارچ ۱۹۸۴ء ہے اس نے یہ حرکت کی ہے اور دونوں فریق اس بات پر مصر ہوتے ہیں کہ دوسرے کا یہ قصور موجود ہے اس لئے ہم یہ کریں گے تو ایسی مشکل صورت میں جب کہ فریقین اس ضد پر قائم ہوں کہ قصور دوسرے کا ہے حلم اس گتھی کو سلجھا سکتا ہے اور کوئی چیز نہیں سلجھا سکتی۔حلم بتا تا ہے کہ ہاں ٹھیک ہے ہم اس جھگڑے میں نہیں پڑتے عدل کے مقام پر ہم نہیں آتے کہ کس کا قصور ہے اور اس کو کتنی سزاملنی چاہئے ہم تمہیں یہ کہتے ہیں کہ دوسرے کا قصور ہو پھر تم برداشت کرو پھر حوصلہ دکھاؤ اس کو حلم کہتے ہیں۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی صفت حلیمی سے تعلق باندھنا چاہتے ہو اور چاہتے ہو کہ خدا تمہارے لئے حلیم ہو جائے تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ ایسے حالات میں بھی حو صلے دکھا ؤ جب کہ دوسرے کا قصور ہو اور تم سمجھتے ہو بہر حال کہ دوسرے کا قصور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو ایک اور رنگ میں بیان فرمایا ہے کہ بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو ( کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ: ۱۲) اور جب بھی جھگڑا ہو ہر فریق سچا ہی سمجھ رہا ہوتا ہے اپنے آپ کو اور جتنا بھی مغلوب الغضب ہوگا اتنا اس کا فیصلہ غلط ہوگا لیکن یقین پورا ہوگا کہ میں سچا ہوں یہ ایک انسانی فطرت ہے۔تو حلیم کا اول تو فیصلہ ہی درست ہوتا ہے اور اس کے اندر سے علم پھوٹتا ہے جو ہمیشہ اس کی راہنمائی سچی کرتا ہے اس کو ایک روشنی عطا کرتا ہے کہ یہاں کتنا قصور تمہارا ہے، کتنامد مقابل کا ہے؟ لیکن حلم کی کمی کے نتیجہ میں اول تو یہ مشکل صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کہ ہر فریق لازماً اپنے آپ کو سچا سمجھتا ہے کیونکہ غصہ کی حالت میں فیصلے کر رہا ہے۔اگر وہ ٹھنڈے مزاج سے فیصلہ کرے جس کو حلم کہتے ہیں تو ہو سکتا ہے اس کا فیصلہ بالکل مختلف ہو لیکن حلم اب بھی اس کی مدد پر آتا ہے وہ کہتا ہے بہت اچھا تم نے غصہ کی حالت میں ایک فیصلہ کر لیا تم سمجھتے ہو کہ تم سچے ہو اور تمہارا مقابل جھوٹا ہے، اب خدا کی حلیمی کی صفت، اس کا حلیم ہو نا تم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ بہت اچھا اگر تم سچے ہواور وہ جھوٹا ہے تم پر ظلم ہو گیا تم غصے کی حالت میں ہو اب چھوڑو اپنا حق اب اس سے رحم کا سلوک فرماؤ۔یہ علم ہے اور اب جلد بازی میں کوئی فیصلے نہ کر بیٹھنا، کوئی ایسے قدم نہ اٹھا بیٹھنا کہ پھر ان کی واپسی ممکن نہ ہو اور اسی کا نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ رکھتے ہیں تم سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا اور یہ حضرت معاذ بن انس کی روایت ہے کہ جو شخص با وجود قدرت کے غصہ کو ضبط کرے گا اللہ تعالیٰ اسکو قیامت کے دن سب کے سامنے بلا کر انعام خاص کا