خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 137

خطبات طاہر جلد ۳ 137 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۸۴ء چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گناہوں کی بخشش کے معنوں میں بھی جب استغفار کی تفسیر فرماتے ہیں تو یہ معنے نہیں لیتے کہ منہ سے کہہ دینا کہ اے خدا میرے گناہ بخش دے تو اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ گناہ بخش دیتا ہے بلکہ یہ معنے لیتے ہیں کہ اگر دل میں یہ پاک تمنا ساتھ پیدا ہو کہ خدا مجھے گناہوں سے دور کر دے اور پھر استغفار کرے تو پھر اس کی صفت مالکیت ظاہر ہوتی ہے۔پھر ناپ تول نہیں کئے جاتے ، پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ گناہ زیادہ تھے یا نیکیاں زیادہ ہیں۔احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ بعض دفعہ ایک لمحہ کے لئے اللہ کی محبت جب دل پر جلوہ گر ہوتی ہے یا خدا کی خاطر بنی نوع انسان کی محبت دل میں جلوہ گر ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ تمام بدیوں کے حساب کو کالعدم کر دیتا ہے اور یہاں اس کی صفت مالکیت استغفار کی قبولیت کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔ان معنوں میں اللہ تعالیٰ کی صفت غفاری کا مالکیت سے ایک گہرا تعلق ہے۔چنانچہ اس مضمون میں بہت سی احادیث ملتی ہیں جن میں سے بعض کو میں نے آج کے خطبہ کے لئے موضوع بنایا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی عمل اللہ فرماتے ہیں ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک حدیث قدسی ہے یعنی آنحضور ﷺ نے اس بات کو خدا کی طرف منسوب کر کے بیان فرمایا کہ اللہ نے مجھے خبر دی ہے۔حدیث قدسی کے الفاظ ہیں اے میرے بندو! ( یعنی خدا کہہ رہا ہے ) تم سب راہ گم کر دہ ہوسوائے اس کے جس کو میں راہ دکھاؤں پس مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔تم سب نادار اور محتاج ہو سوائے اس کے جس کو میں بے نیاز کروں پس مجھ سے اپنا رزق مانگو اور تم سب گناہگار ہو سوائے اس کے جس کو میں بچاؤں پس تم میں سے وہ جو یقین رکھتا کہ میں گناہ بخشنے کی قدرت رکھتا ہوں وہ مجھ سے بخشش طلب کرے میں اسے بخش دوں گا اور بخشش میں بالکل نہیں ہچکچاؤں گا۔اگر تمہارے اولین اور آخرین تمہارے زندے اور تمہارے مردے، تمہارے تروتازہ اور تمہارے بیمار اور خشک، سب تقومی شعار دل رکھنے والے ہوں تو ان سب کا بہترین متقی ہونا میری سلطنت اور ملکیت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں کر سکتا۔اور اگر تمہارے اولین اور آخرین اور تمہارے زندے اور تمہارے مردے، تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے بدتر اور شقی القلب ہو جائیں تو ان کی یہ برائی میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کرسکتی۔اور اگر تمہارے اولین اور آخرین زندے اور مردے، جوان اور بوڑھے ایک میدان میں اکھٹے ہو جا ئیں