خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 136
خطبات طاہر جلد ۳ 136 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۸۴ء استغفار کی یہی تعریف فرمائی ہے کہ استغفار خدا تعالیٰ کی محبت میں چھپنے کا نام ہے۔کتنی عارفانہ تفسیر ہے جو اس سے پہلے آپ کو کبھی کسی مفسر کے قلم سے نکلتی ہوئی دکھائی نہیں دے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” اور استغفار جس کے ساتھ ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں قرآن شریف میں دو معنی پر آیا ہے۔ایک تو یہ کہ اپنے دل کو خدا کی محبت میں محکم کر کے گناہوں کے ظہور کو جو علیحدگی کی حالت میں جوش مارتے ہیں کتنا گہرا فلسفہ گناہ کا بیان فرما دیا استفغار کی تعریف میں کہ گناہ خدا سے دوری کے نتیجے میں جوش مارتے ہیں اور اس کی محبت کے نتیجے میں خود بخود پگھلنے لگتے ہیں۔فرمایا: ” خدا تعالیٰ کے تعلق کے ساتھ روکنا اور خدا میں پیوست ہو کر اس سے مدد چاہنا۔یہ استغفار تو مقربوں کا ہے“ یعنی انبیاء اور بڑے بڑے اولیاء اور ان بزرگوں کا جو مقربین کی صف میں شمار ہوتے ہیں۔جو ایک طرفۃ العین خدا سے علیحدہ ہونا اپنی تباہی کا موجب جانتے ہیں ایک لمحہ کے لئے بھی وہ خدا سے دور ہونا پسند نہیں کرتے اور خدا کے ساتھ رہتے ہیں۔یہ استغفار تو مقربوں کا ہے۔اس لئے استغفار کرتے ہیں تا خدا اپنی محبت میں تھامے رکھے یعنی گنا ہوں سے بخشش کا کوئی تصور یہاں اس میں نہیں آتا گناہوں سے بچنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور خالصہ محبت الہی کے نتیجہ میں گنا ہوں سے بچنے کے لیے جو تمنا دل میں پیدا ہوتی ہے اسے استغفار کہا جاتا ہے۔اور دوسری قسم استغفار کی یہ ہے کہ گناہ سے نکل کر خدا کی طرف بھا گنا اور کوشش کرنا کہ جیسے درخت زمین میں لگ جاتا ہے ایسا ہی دل خدا کی محبت کا اسیر ہو جائے۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ نمبر ۳۴۶، ۳۴۷)