خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 126
خطبات طاہر جلد۳ 126 خطبه جمعه ۲ / مارچ ۱۹۸۴ء اطمینان کا سامان کرو اور اس کو فلاح اور کامیابی کی خوش خبری دو تو ضروری ہے کہ اپنے لئے ہر معنی میں بہترین چیز کے طلب گار ہو جاؤ۔پس اس طرف سے ہماری توجہ ہٹا کر کہ ہم گناہ کرتے چلے جائیں اور خدا تعالیٰ سے مغفرت ان معنوں میں مانگیں کہ ہم نے جو گناہ کیا ہے ان کو ڈھانپ دے،حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہایت ہی اعلیٰ رنگ میں ، نہایت ہی پیارے اور اثر انداز ہونے والے رنگ میں جماعت احمدیہ کو اس طرف متوجہ کیا کہ جس طرح آنحضور علہ استغفار کیا کرتے تھے انہی معنوں میں تم بھی استغفار کرو۔چنانچہ حضور اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں جو لوگ خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں وہ باوجود نبی اور رسول ہونے 66 کے اقراررکھتے ہیں کہ جیسا کہ حق تبلیغ کا تھا ادا نہ کر سکے۔“ اب یہاں تو بہ کے معنی سمجھ آگئے کہ تو بہ کن معنوں میں آنحضور ﷺ فرماتے ہیں اور کن معنوں میں اس تو بہ اور استغفار کا تعلق ہے۔اپنی ساری کوششیں خدا کی راہ میں صرف کرنے کے باوجود، اپنے دن رات کے آرام کو اللہ کی رضا کی خاطر قربان کرنے کے باوجود، دو وجوہات سے آنحضرت عم تو بہ کی طرف مائل ہوتے تھے۔اوّل یہ کہ آپ جانتے تھے کہ جتنی میری تمنا ہے، جتنی میری خواہش ہے اس تمنا کے مطابق میں خدا کی راہ میں قربانی نہیں کر سکا یعنی اتنی غیر معمولی بڑھی ہوئی تمنا تھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں قربانیاں دینے کی کہ تمام بنی نوع انسان سے سبقت لے جانے کے باوجود، تمام نبیوں کے سردار کہلانے کے باجود، با وجود اس کے کہ بار بار اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رضا کی خبریں دی اور مسلسل آپ سے محبت اور پیار کی باتیں کرتا رہا، پھر بھی جو تمنا آپ کی تھی کہ میں سب کچھ خدا کی راہ میں جھونک دوں آپ کو یہ احساس رہتا تھا کہ شاید وہ پورانہیں ہوسکا۔ان معنوں میں تو بہ ہے۔کہاں گناہگاروں کی تو بہ کہاں ایک عارف باللہ اور معصوم کی تو بہ ! ان دونوں کے اندرزمین و آسمان کا فرق ہے۔ان کے گناہوں کے معیار بدل جاتے ہیں یعنی ان کے تصورات میں جو چیز گناہ کہلاتی ہے وہ بالکل اور چیز ہے اس تصور گناہ سے جو ایک عام انسان کا تصور ہے اور اس میں بھی درجہ بدرجہ بہت فرق پڑتے چلے جاتے ہیں۔پس آنحضور ﷺ کی اس حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اور اسی کو وہ گناہ عظیم خیال کرتے ہیں یعنی اپنی ساری طاقتیں صرف کرنے کے باوجود وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی ہم نے حق ادا نہیں کیا اور دوسرا اس وجہ سے ان کو یہ