خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 125
خطبات طاہر جلد ۳ 125 خطبه جمعه ۲ / مارچ ۱۹۸۴ء صلى الله پس جب خدا تعالیٰ آنحضور علی کے متعلق فرماتا ہے لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَرَ (الفتح :) تو مراد یہی ہے کہ تجھے جس طرح پہلے ہر گناہ سے دور رکھا تھا اللہ تعالیٰ نے اسی طرح آئندہ بھی تجھے ہر گناہ سے دور رکھنے کا وعدہ کرتا ہے اور گناہ کے قریب بھی تو نہیں پھٹکے گا یا گناہ کو تو فیق نہیں ہوگی کہ تیرے قریب پھٹک سکے۔پس ان معنوں میں جب ہم غور کرتے ہیں تو پھر ان احادیث کی سمجھ آتی ہے جن میں آنحضور ﷺ کثرت سے استغفار فرماتے ہیں۔حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ خدا کی قسم میں دن بھر میں ستر (70) مرتبہ سے زائد دفعہ تو بہ اور استغفار کرتا ہوں۔(سنن الترمذی کتاب الدعوات عن رسول الله علی باب في دعاء النبي ع ) حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک ہی مجلس میں ہم بیٹھے ہوئے تھے اور آنحضور ﷺ نے سو مرتبہ سے زائد دفعہ یہ دعا کی: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَى إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفَوْرُ اے میرے رب ! میری مغفرت فرماؤ تُبْ عَلَی اور میری تو بہ کو قبول کرتا ہوا مجھ پر جھک اور مجھ پر رحم فرما، انک انت التواب الغفور تو بہت ہی تو بہ کو قبول کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے۔(سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب في الاستغفار ) یہاں ایک شبہ پڑتا ہے کہ اگر یہ تفصیل درست ہے تو پھر تو بہ کا کیا تعلق ہے۔تو بہ تو عموماً یہی سمجھا جاتا ہے کہ ایسے گناہوں سے کی جاتی ہے جو انسان سے سرزد ہوں اور آئندہ سے ان سے باز رہنے کے لئے انسان اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اس کا نام تو بہ ہے۔تو جیسا کہ میں آگے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس پیش کروں گا اس الجھن سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تاریکی کو دور فرمایا اور ہمارے لئے روشنی کا سامان پیدا کیا۔چنانچہ ان معنوں میں کہ خدا تعالیٰ سے گناہوں سے دور رہنے کی دعا کی جائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف انداز میں جماعت کو نصیحت فرمائی اور اس طرف توجہ دلائی کہ تو بہ کے ادنی معنوں سے بہت بڑھ کر تو بہ کے اعلیٰ معنی کی طرف توجہ کرو اور استغفار کے ادنی معنوں سے بہت بڑھ کر استغفار کے اعلیٰ معنوں کی طرف توجہ کرو۔اگر تم چاہتے ہو کہ تمام دنیا کے تم مربی بن جاؤ اور تمام دنیا کے لئے راحت و