خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 122
خطبات طاہر جلد۳ 122 خطبه جمعه ۲ / مارچ ۱۹۸۴ء چشمے نہ پھوٹتے ہوں اور ان پر انسان کسی صورت میں بھی حاوی ہو سکے۔چنانچہ قرآن کریم کی کسی آیت کی تفسیر پر حاوی ہونے کا دعوی ہی ایک نہایت متکبرانہ دعویٰ ہے اور بالکل جھوٹا دعویٰ ہے۔تو ان معنوں میں تو ہر آیت بہت وسیع معانی رکھتی ہے لیکن جب ہم عرف عام میں بات کرتے ہیں تو ان آیات میں سے بعض آیات اور صفات باری تعالیٰ میں سے بعض صفات اندورنی نسبت کے لحاظ سے زیادہ وسیع المعنیٰ ہوتی ہیں۔پس ان معنوں میں جب میں کہتا ہوں کہ صفت غفور بیت یا غفاریت یا مغفرت ایک بہت ہی وسیع صفت ہے تو مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے اندورنی تناسب اور اندورنی تعلق کے لحاظ سے یہ بہت وسیع المعنی صفت ہے۔اس کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بعض لوگ مغفرت کے ایسے معانی اپنے ذہنوں میں بٹھا لیتے ہیں جس سے وہ گناہ پر جرات کرنے لگتے ہیں اور ان کی طبیعت میں بے باکی پیدا ہوتی ہے اور بعض دفعہ دوسری انتہا پر جا کر مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعض دفعہ اس کے معانی نہ سمجھنے کے نتیجہ میں جو حقیقی روح ہے اس سے غافل رہتے ہیں اور جس رنگ میں خدا تعالیٰ کی صفت مغفرت سے استفادہ کرنا چاہئے اس استفادہ کی توفیق نہیں پاتے۔اللہ تعالی کی یہ صفت مختلف بندوں کے تعلق میں مختلف معانی اختیار کرتی چلی جاتی ہے اور قرآن اور سنت سے یہ ثابت ہے کہ اس کے نہایت اعلیٰ اور ارفع معانی ہمارے آقاومولا حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے تعلق میں بیان ہوئے اور ادنی معانی ایسے گناہگاروں کے حق میں بھی بیان ہوئے کہ جن کے اعمال نامہ میں کچھ بھی ایسا نیکی کا فعل نہیں تھا، کوئی ایسی خدا تعالیٰ کی مغفرت کو جذب کرنے والی خوبی نہیں تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے لا زماوہ لوگ جہنمی ہو چکے لیکن خدا تعالیٰ کی صفت مغفرت نے ان کو بھی بچالیا۔پس ان دو انتہاؤں کے درمیان سالکین کے جتنے مراتب ہیں ان سب پر اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت پھیلی پڑی ہے یعنی کچی پکی کا امتحان دینا ہو تو وہاں بھی صفت مغفرت ایک پر چہ ڈالے گی اور سب سے اعلیٰ درجہ کا امتحان دینا ہو اور اس میں بھی انتہائی اعلی مقام کے نمبر حاصل کرنے ہوں تو اس کے لئے بھی صفت مغفرت ایک پر چہ ڈالے گی اور یہی مغفرت کی صفت مختلف رنگ میں مختلف روپ میں انسان پر ظاہر ہوتی چلی جائے گی۔آج میں نے جس آیت کا انتخاب کیا ہے اس میں سب سے اعلیٰ اور ارفع معانی صفت مغفرت کے بیان ہوئے ہیں جن کا تعلق حضرت اقدس محمد مے سے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے