خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 115

خطبات طاہر جلد۳ 115 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء ایک دانے میں بھی ڈوب جاتا ہے۔اور اہل اللہ پر ایسی حالتیں آجایا کرتی ہیں۔بہر حال انہوں نے لڈو ہاتھ میں پکڑا اور اس میں سے ایک دانہ منہ میں ڈالا اور ان کا وہی دانہ ختم نہیں ہو رہا تھا اور باقی کھانے والے سب کچھ کھا بیٹھے تھے۔تو ایک شاگرد نے پوچھا کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے لڈو ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے اور ابھی ایک ہی دانہ کھایا ہے۔انہوں نے کہا جس جہان میں میں پہنچا ہوا ہوں اور جولذتیں میں اٹھا رہا ہوں تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔میں نے جب منہ میں رکھا ایک دانہ تو مجھے خیال آیا کہ اس میں ایک جزو میٹھا ہے اور اس میٹھے کو خدا تعالیٰ نے مجھ تک پہنچانے کے لئے کتنا عظیم ایک کارخانہ جاری کیا ہوا ہے۔ایک دن ایک زمیندار اٹھا اور ہل لے کر ایک کھیت کی طرف روانہ ہوا اور وہاں اس نے محنت کی اور وہاں اس نے ایک بیج بویا اور پھر سارا سال اس کی پرورش کی، اس کو پانی دیا اور اس کی حفاظت کی پھر اس کو کاٹا پھر اس کا رس بنایا۔پھر اس پر اس نے محنت کی ،آگ جلانے کے لئے کوشش کی اور کچھ ذرے اس میں ایسے تھے جو خدا کے نزدیک مقدر تھے کہ وہ میرے منہ میں پہنچیں گے اور وہ ساری محنتیں اس لئے ہو رہی تھیں کہ خدا کے ایک بندہ تک ایک مٹھاس پہنچے جائے۔کہتے ہیں میں سوچتے سوچتے یہاں پہنچا پھر مجھے خیال آیا کہ اس شخص کی محنت سے پہلے ہزارہا لوگوں کی لا متناہی محنتیں بھی ہیں اور وہ ساری اس کھانڈ کے ایک ذرے میں پہنچ چکی ہیں جنہوں نے لو ہے کو کانوں سے نکالا اور اس سے وہ اوزار بنائے اور جس کے نتیجہ میں اس نے ہل بنایا۔پھر جنہوں نے لکڑی پر کام کیا اور وہ لوگ جو ہزاروں سال پہلے ان چیزوں کے موجد بنے۔اور ورشتہ آگے لوگوں نے ان سے یہ فیض پائے۔یہ سارے زمانہ کی محنتیں سارے زمانہ کی دماغی کاوشیں جو اس پھل پر منتج ہوئیں جس پھل کو زمین میں گاڑا گیا اور اس سے پھر آگے زمین کو کاشت کیا گیا۔یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کی تھیں کہ خدا کے بندے ان سے فائدہ اٹھا ئیں اور پھر میٹھا بنے اور وہ میٹھا کسی کے منہ تک پہنچے تو مجھے تو یوں لگ رہا تھا کہ سارا کارخانہ قدرت کا مجھے تک ایک مزہ پہنچانے کے لئے وقف ہوا ہوا ہے۔پھر اس کے دوسرے اجزا کی طرف توجہ گئی۔اب یہ اتنا لمبا مضمون ہے ظاہر بات ہے کہ ایک شخص جو اس مضمون میں ڈوب رہا ہو اور اس سے مزے اٹھارہا ہو، اس وقت اس لڈو کی اس کے نزدیک کوئی بھی قیمت نہیں رہتی یعنی اس کے ظاہر کی اور وہ غائب ہو جاتا ہے۔اور خدا ظاہر ہو جاتا ہے اس کو کہتے ہیں خدا تعالیٰ کی صفت ظاہر وہ ان بندوں کے لئے جو اس سے پیار کرتے ہیں