خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 113

خطبات طاہر جلد ۳ 113 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء کر دیتی ہے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کاظم اس کے سوا کیا تھا کہ ایک اللہ ہے جو ایک عظیم الشان نعمت ہے جس کا کوئی حساب نہیں ہے کوئی اسکا کنارا نہیں ہے۔لامتناہی نعمتوں کا خزانہ ہے اور بنی نوع انسان اس سے غافل ہیں اور اللہ سے ایسا عشق تھا ایسی محبت تھی کہ بے خدا لوگوں کو دیکھ کر دل جل جاتا تھا اور کٹ جاتا تھا۔تو یہ محبت در اصل خدا سے محبت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے یعنی مقصد سے محبت خدا ہی سے محبت کا ایک شاخسانہ ہے۔تو یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے اعلیٰ مقصد کے لئے دعا کرنی ہے لیکن اللہ سے محبت نہ ہو تو یہ دعا ئیں بے معنی سی ہو جائیں گی اس لئے اللہ تعالیٰ سے محبت کریں۔اور اگر اللہ تعالیٰ سے آپ محبت کریں گے تو وہ مقصود بالذات ہو جاتا ہے۔اس کے بعد باقی ساری دعائیں ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں در دو عالم مرا عزیز توئی و آنچه میخواهم از تو، نیز توئی ( در تمین فارسی ) کہ اے خدا خلاصہ یہ ہے میری دعاؤں کا کہ در دو عالم مرا عزیز توئی۔دونوں جہان میں تو ہی ہے جو مجھے پیارا ہے، وآنچه میخو اہم از تو، نیز توئی ہمیں جو مانگتا ہوں تجھ سے تجھے ہی مانگ رہا ہوں، تو مجھے مل جا مجھے سب کچھ مل گیا۔تو اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت کے بغیر کوئی احمدی روحانی طور پر زندہ نہیں ہوسکتا نہ اس کی دعائیں زندہ ہوسکتی ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی محبت کے معیار کو بلند کریں۔اکثر انسان غفلت کی حالت میں دن گزارتے ہیں۔نہ غم سے فائدہ اٹھاتے ہیں نہ خوشی سے اور نہ کسی مقصد سے لگاؤ رکھتے ہیں اور اس آخری مقام کو نہیں پاسکتے جو خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت کا مقام ہے اور ان تینوں سے بالا ہے۔ان سے اوپر اس کی منزل آتی ہے اور ایک احمدی نے جس نے دنیا میں بہت عظیم الشان کام کرنے ہیں اور انقلاب برپا کرنے ہیں اس کو سوچنا چاہئے کہ اس کے پاس ہے کیا ؟ وہ کس طرح دنیا میں انقلاب برپا کرے گا؟ اگر جماعت احمد یہ اپنی ساری دنیا کی طاقتیں کسی ایک ملک میں اکٹھی کرلے اور صرف ظاہری طاقتوں پر انحصار کر کے وہاں انقلاب لانے کی کوشش کرے تو لا زمانا کام ہو جائے گی کیونکہ دنیا کے ذرائع جماعت کے ذرائع سے بہت زیادہ آگے بڑھ چکے ہیں اور اگر کسی ایک ملک کی جماعت احمد یہ خالصہ اللہ کی ہو چکی ہو اور اس کے تمام افراد مردوزن