خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 109

خطبات طاہر جلد ۳ 109 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء تو یہ طاقتیں ہیں جن کو قرآن کریم دعا میں تبدیل کرنے کی ہدایت دے رہا ہے فرما رہا ہے کہ یہ دعائیں ہیں جو مقبول ہوا کرتی ہیں۔لیکن اکثر لوگ جو خوش ہوتے ہیں اس وقت خدا کو بھول جاتے ہیں اور غم کے وقت یاد آتا ہے صرف اور غم کے وقت بھی جس طرح یاد آنا چاہئے اس کا پورا سلیقہ ان کو نہیں ہوتا کیونکہ بعض دفعہ غم کے وقت وہ مایوسی کا اظہار بھی کرتے ہیں، تقدیر کا شکوہ بھی شروع کر دیتے ہیں، یہ بھی کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ خدا کا کیا معاملہ ہے کہ کسی کو کچھ دے دیا اور کسی کو کچھ ہم سے چھین لیا فلاں سے نہ چھینا۔تو اکثر غم بھی ضائع کر دیتے ہیں۔یعنی جس طرح پانی سیلاب بن کر نقصان تو پہنچا دیتا ہے لیکن بجلی کی مشینوں کو نہیں چلا سکتا۔وہ قو میں جن کو طاقتوں سے کام لینے کا سلیقہ نہ آئے ان کا یہی ہوتا ہے۔سیلاب ان کے ہاں بھی آتے ہیں لیکن ہلاکت کا موجب بن جاتے ہیں اور جن کے ہاں سلیقہ ہوتا ہے جن کے پاس وہ سیلابوں کو دیکھ کر ان کو Dames میں تبدیل کرتے ہیں۔بند باندھتے ہیں پھر ان سے طاقت لیتے ہیں۔قرآن کریم بھی بڑا ایک سائنٹیفک مذہب ہے اور بڑی باریکی کے ساتھ حکمت اور فلسفہ کے ساتھ آپ کو راہ سمجھا رہا ہے کہ کس طرح عام چیزوں سے استفادہ ہونا چاہئے خدا نے عطا کی ہیں۔غم سے بھی اور خوشی سے بھی لیکن جیسا کہ غم سے بھی پورا استفادہ نہیں کیا جا تا خوشی سے تو اکثر اوقات ہوتا نہیں استفادہ۔جب خوشی ملتی ہے تو انسان کہتا ہے دیکھو میری چالا کی سے مجھے یہ فائدہ ہو گیا یا خوشی ملتی ہے تو کہتا ہے میری قسمت کا ستارہ دیکھو کتنا بلند ہے۔خوشیوں کے لئے ہی میں پیدا کیا گیا ہوں۔خوشیاں ملتی ہیں تو خدا کو بھی بھول جاتا ہے اور بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنا بھی بھول جاتا ہے۔اپنی ذات میں مگن ہو کہ اس میں ایک تکبر پیدا ہو جاتا ہے وہ بھی مستغنی ہوتا ہے بنی نوع انسان سے لیکن خدا کے رنگ میں نہیں شیطان کے رنگ میں۔اس میں ایک تکبر کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔وہ کہتا ہے میرا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے میں خوش ہوں اور یہ خوشیاں میرے لئے ہیں جو غموں میں مبتلا ہیں بے شک جہنم میں جائیں مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں۔تو خوشیاں بھی ضائع جاتی ہیں۔آنحضرت ﷺ کے نہ غم ضائع جاتے تھے اور نہ خوشی ضائع جاتی تھی۔ایک دفعہ آنحضور ساری رات خدا کے حضور روتے اور گریہ وزاری کرتے رہے اور صبح جب نماز کے لئے باہر نکلے تو حضرت بلال نے یہ پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو تو خدا نے ایسی بخشش کی خوش خبری دی ہے کہ !