خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 104
خطبات طاہر جلد ۳ 104 خطبہ جمعہ ۱۷ فروری ۱۹۸۴ء ہو، کوئی مشکل نہ بھی ہو تب بھی اپنے رب سے پیار کا تعلق بڑھاؤ اور اس سے دعائیں کرتے رہو۔ فرمایا بعض اوقات بعض مصیبتیں اس طرح اچانک آجاتی ہیں کہ اگر پہلے سے دعاؤں کا خزانہ موجود نہ ہو تو اس وقت دعا کا وقت بھی انسان کو نہیں ملتا۔ بعض ناگہانی آفات ہیں، بعض اچانک رونما ہونے والے حادثات ہیں فرمایا کہ اس کے لئے اہل اللہ کے کام آنے والے پہلے سے دعا کے مقبول خزانے موجود ہوتے ہیں جو اس وقت ان کے کام آتے ہیں تو ایک اور گر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔ مختلف فرمودات پر نظر ڈالنے سے دعا کے مضمون پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمائے خلاصہ تین چیزیں ایسی ملتی ہیں جن کے بغیر دعا میں طاقت پیدا نہیں ہوتی ۔ دعا یا تو غم سے قوت پاتی ہے یا دعا شکر سے قوت پاتی ہے اور یا محبت سے قوت پاتی ہے۔ اس خوشی سے قوت پاتی ہے جو شکر میں تبدیل ہو جائے یعنی غم کے مقابل پر خوشی ہے لیکن محض خوشی سے دعا کو طاقت نہیں ملتی بلکہ اس خوشی سے طاقت ملتی ہے جو شکر میں تبدیل ہو جاتی ہے اور یہ تینوں باتیں قرآن کریم سے ہی نکلی ہیں اور آنحضرت ﷺ نے بھی مختلف رنگ میں اس مضمون کو بیان فرمایا۔ تو وہ شخص جود یا۔ تو وہ شخص جو دعا کرتے و ن نمگین ہو اور نہ احساس شکر رکھتا ہو خدا تعالیٰ کے احسانات کو یاد کر کے اور ان خوشیوں کو پیش نظر نہ رکھے جو خدا نے عطا فرمائیں اور وہ شخص بھی جو خدا تعالیٰ کی محبت یا اپنے مقصد کی غیر معمولی محبت نہ رکھتا ہو اس شخص کی دعا بالکل خشک دعا ہوتی ہے اسے پھل نہیں لگ سکتا، خشک درختوں کو کیسے پھل لگے گا۔ خشک صلى الله عروسه وقت ٹہنیاں تو جلانے کے کام آسکتی ہیں ان میں نشو و نما کوئی نہیں ہوتی ، ان میں سبزہ پیدا نہیں ہوتا۔ پس یہ تین طاقتیں ہیں آپ دعا سے پہلے کسی نہ کسی طاقت سے تعلق جوڑیں۔ ان طاقتوں کے بغیر ناممکن ہے کہ دعا میں مقبولیت پیدا ہو مثلاً سلسلہ کے لئے جو دعائیں دل سے اٹھتی ہیں ان میں لازما اس کے پیچھے ایک غم کا پہلو بھی ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو عشق رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے ، آ ، آنحضرت ﷺ سے ان کا دل کشتار ہوتا ہے اس غم میں کہ لوگ کیوں بد زبانی کرتے ہیں ہیں اور کیوں ان سے دور ہیں اور ان کو نہیں سمجھ سکتے اور ان کے مقام کو نہیں پہچانتے۔ تو اپنے محبوب کے خلاف باتیں سننے سے دل میں ایک شدید غم پیدا ہوتا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے جب ب لیکھو (لیکھرام ) کے متعلق بددعا کی تو اس کے پیچھے حضرت رسول اکرم ﷺ کی غیرت صلى الله م عليه