خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 5
خطبات طاہر جلد ۳ 5 خطبه جمعه ۶ جنوری ۱۹۸۴ء وَ اسمَعِيلَ وَ إِنَّ لِوَآءَ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَا مَهَ بِيَدِى وَ إِنَّ أَقْرَبَ الْخَلْقِ مِنْ لِوَ إِئِي يَوْمَئِذٍ الْعَرَب ( کنز العمال جلد ۶ صفحه ۲۰۴) کہ میں نے عربوں کے لئے دعا کی اور عرض کیا اے میرے اللہ ! جوان (عربوں ) میں سے تیرے حضور حاضر ہو اس حال میں کہ وہ مومن ہے تیری لقا کو مانتا ہے تو تو تمام عمر اس سے بخشش کا سلوک فرما۔ اور یہی دعا حضرت ابراہیم نے کی ، اسماعیل نے کی اور حمد کا جھنڈا قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہوگا اور تمام مخلوقات میں سے میرے جھنڈے کے قریب ترین اس روز عرب ہوں گے۔ پھر فرمایا: الْعَرَبُ نُورُ اللهِ فِي الْأَرْضِ وَ فَنَاءُ هُمْ ظُلُمَةٍ فَإِذَا فَنِيَتِ الْعَرَبُ اظْلَمَتِ الْأَرْضُ وَذَهَبَ النُّورُ ۔ ( کنز العمال جلد ۶ صفحه ۲۰۴) عرب اللہ تعالیٰ کا نور ہیں اس زمین میں اور ان کی ہلاکت تاریکی کا باعث ہوگی ۔ جب عرب ہلاک ہوں گے تو زمین تاریک ہو جائے گی اور نور جاتا رہے گا تو معنوی لحاظ سے بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ عربوں کو ہلاکتوں سے بچائے اور ظاہری اور جسمانی لحاظ سے بھی دعا کرنی چاہئیے کہ اللہ تعالی عربوں کو ہلاکت سے بچائے۔ صلى الله عروسه پھر حضوراکرم علی نے نصیحت فرمائی: أحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ لَا نِي عَرَبِي وَالْقُرُ انُ عَرَبِي وَ كَلَامُ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِي ( کنز العمال جلد ۶ صفحه۲۰۴) عربوں سے تین وجوہ سے محبت کر واول یہ کہ میں عربی ہوں دوئم یہ کہ قرآن کریم عربی میں نازل ہوا سوئم یہ کہ اہل جنت کی زبان بھی عربی ہوگی۔ پھر آنحضور ﷺ فرماتے ہیں: صلى الله : احبو الْعَرَبَ وَ بَقَاءَهُمْ فَإِنَّ بَقَاءَ هُمْ نُورٍ فِي الْإِسْلَامِ وَإِنَّ فَنَاءَهُمْ ظُلُمَةٌ فِي الْإِسلام ( کنز العمال جلد ۶ صفحه ۲۰۳) کہ عربوں سے بہت محبت کرو اور ان کی بقا سے محبت کرو یعنی کوشش کرو کہ وہ ہر حال میں