خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 6

خطبات طاہر جلد ۳ 6 خطبه جمعه ۶ جنوری ۱۹۸۴ء باقی رہیں اور زندہ رہیں اور دنیا میں ہمیشہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے ہوئے جاری ساری رہیں۔آپ فرماتے ہیں إِنَّ بَقَاءَ هُمُ نُورٍ فِي الْإِسْلَامِ اگر یہ قوم باقی رہے گی تو اسلام کا نور باقی رہے گا وَإِنَّ فَنَاء هُمْ ظُلُمَة فِي الْإِسْلَام اور ان کے فنا ہونے سے اسلام میں تاریکی آجائے گی۔پھر فرمایا: حُبُّ الْعَرَبِ إِيْمَانِ وَ بُغْضُهُمْ نِفَاقِ فين ( کنز العمال جلد ۲ صفحه : ۴۴) عربوں سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے ، ایمان کی علامت ہے اور نفاق ہے یہ بات کہ عربوں سے بغض کیا جائے۔جس کے دل میں منافقت کی رگ ہو صرف وہی عربوں سے دشمنی یا بغض رکھ سکتا ہے۔پہنچے گی۔پھر آنحضور ﷺ نے فرمایا: مَنُ غَشَ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلُهُ مَوَدَّ تِي“ ( ترمذی ابواب المناقب باب مناقب في فضل العرب ص ۶۳) جس نے عربوں کو دھوکا دیا وہ میری شفاعت میں داخل نہیں ہوگا اور اس کو میری محبت نہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنے آقا کی پیروی میں عربوں سے غیر معمولی محبت کی اور محبت کی تعلیم دی اور ان کے لئے بے انتہا دعائیں کیں۔چنانچہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض تحریرات آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ کے دل میں بھی وہی جذ بہ جوش مارے، اسی طرح دل گرمائے جائیں عربوں کی محبت میں اور اسی طرح عاجزی اور انکسار اور بے حد خلوص اور جذبہ کے ساتھ آپ اپنے عرب بھائیوں کو دعاؤں میں یا درکھیں۔پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ عربوں میں بعض لوگ بہت ہی نیک دل اور پاک فطرت اور صلحاء ایسے ہیں جنہوں نے مجھے قبول کیا ہے مخالف حالات کے باوجود اور صدق وصفا میں وہ بہت بڑھ گئے ہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا: