خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 99
خطبات طاہر جلد ۳ 99 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء میرے ساتھ کھانے میں شریک ہیں۔تو یہ تینوں خواہیں اوپر تلے نظر آنی اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت کی طرف دلالت کر رہی ہیں۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ جماعت کو غیر معمولی نصرت بھی عطا فرمائے گا اور اگر کچھ حالات مخدوش پیدا ہوئے تو خدا خود حفاظت بھی فرمائے گا اور ہمیں کسی غیر کی حفاظت کی ضرورت نہیں ہے اور پھر انجام میں خدا تعالیٰ ایک دعوت دکھاتا ہے اور نواب مبار کہ بیگم صاحبہ جن کے متعلق الہاماً خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ” مینوں کوئی نہیں کہہ سکدا ایسی آئی جنیں ایہہ مصیبت پائی۔“ ( تذکرہ صفحہ ۲۷۷) یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پنجابی میں حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کے متعلق ہوا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ نام بھی مبارک ہے اور ان کی معیت بھی مبارک ہے اور کبھی یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ آئیں اور کوئی مصیبت ساتھ باقی رہے ان کے آنے سے مصیبتیں ٹل تو جائیں گی آنہیں سکتیں ساتھ اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔تو معنوی لحاظ سے بھی اور الہامات کی روشنی میں ہر لحاظ سے یہ خواہیں اور جو ایک ترتیب میں آئی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے لئے بہت ہی مبارک ہیں۔اور مجھے اندازہ ہے نظر آرہا ہے بلکہ کہ خدا تعالیٰ جلد جلد انشاء اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ جماعت کو غیر معمولی تائیدی نشان دکھائے گا۔لیکن ان مبشرات کا ایک تقاضا بھی ہے اس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم کے ساتھ کچھ تائیدی نشان دکھاتا ہے تو اس کے مقابل پر جماعت پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور پہلے خوش خبریاں دکھانا ایک یہ پیغام بھی رکھتا ہے کہ ان خوش خبریوں کے اہل بنے کی کوشش کرو اور ان کے مستحق ہونے کے لئے جدو جہد کرو۔جہاں تک محنت اور کوشش کا تعلق ہے یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ جماعت پہلے کی نسبت بہت تیزی کے ساتھ مستعد ہوتی جارہی ہے۔ایسی جماعتیں جہاں دعوت الی اللہ کا کوئی گمان بھی نہیں تھا تصور بھی کوئی نہیں تھا اور اس ضلع میں بھی ایسی جماعتیں موجود ہیں جو خدا کے فضل سے بڑی تیزی کے ساتھ دعوت الی اللہ کے کام میں مصروف ہو رہی ہیں اور جس طرح ایک بھنبھناہٹ ہوتی ہے اس طرح ایک رو چلی ہوئی ہے جماعت میں کہ ہم اپنے رب کی طرف اس کے بندوں کو بلائیں اور کامیاب دعوت الی اللہ دیں۔یہ جذ بہ اور شوق تو ہر جگہ موجود ہے لیکن ہر جگہ برابر پھل نہیں لگ رہے۔بعض علاقوں میں