خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 385
خطبات طاہر جلد ۳ 385 خطبہ جمعہ ۲۰ / جولائی ۱۹۸۴ء پھر ایک اور اس عذر میں حماقت کا پہلو یہ ہے کہ کہا یہ جارہا ہے کہ احمدی مسلم بن کر گویا سوسائٹی کو دھوکا دے رہے ہیں اور اس طرح عوام الناس بیچارے یہ سمجھ کر کہ یہ بھی مسلمان ہیں وہ ان کے دھوکے میں آجاتے ہیں۔ایسی احمقانہ بات ہے کہ جس کے متعلق یہ فیصلہ ہوا ہو 74ء کی اسمبلی میں کہ وہ غیر مسلم ہیں وہ عوام الناس کو کیا دھوکا دیتے ہیں کہ ہم کچھ اور ہیں۔یا تو غیر احمدی بن کر اپنے اندر شامل کرتے ہوں پھر تو دھوکا ہے، احمدی بن کر جب شامل کرتے ہیں تو پھر کس طرح دھوکا ہو گیا اور پھر دھوکا کیسے ہو گیا جب کہ احمدی ہونے کے نتیجے میں سزا ملتی ہے؟ عجیب بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی احمدی ہوتا ہے پاکستان میں خصوصیت کے ساتھ اس کے ساتھ ایسا خوفناک سلوک کیا جاتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں دو باتیں طبعی نتیجے کے طور پر سامنے آتیں ہیں اول یہ کہ یہ جماعت دھوکا دینے والی نہیں ہے کیونکہ دھوکا دینے والا تولالچ دیتا ہے کہ تمہیں یہ ملے گا اور وہ ملے گا، تمہیں جائیداد میں ملیں گی تمہیں نوکریاں ملیں گی، تمہیں فلاں نعمتیں نصیب ہوں گی۔جس جماعت میں داخل ہونے کے ساتھ ہی پہلی نعمتیں بھی ہاتھ سے جاتیں رہیں، نوکریاں چھٹ رہی ہوں، ماں باپ گھر سے نکال رہے ہوں، بیویاں روٹھ کر گھروں میں جا کر بیٹھ جائیں، قیامت برپا ہو جائے شہر میں، جہاں معزز تھا وہاں کا ذلیل انسان بن جائے ، باپ اپنے بیٹوں کو جائیدادوں سے محروم کر دیں، مائیں اتنا مار میں کہ حلیے بگاڑ دیں مار مار کے، چھوٹے بھائی اٹھ کر گالیاں دیں اور منہ پر تھپڑ ماریں۔یہ سارے واقعات پاکستان میں ہورہے ہیں اور ہوتے ہیں ہمیشہ۔یہ کہا جارہا ہے کہ تم دھوکا دے کر ان لوگوں کو ساتھ شامل کر رہے ہو۔عجیب دھوکا ہے ، دھوکا تو وہ ہے جو تم کرتے ہو کہ وہ دو چار مرتد جو ہیں ان کے لئے دیگیں پکتی ہیں، ان کے گلوں میں ہار ڈالے جاتے ہیں، ان کے لئے گیٹ بنتے ہیں اور دو چار دن دعوتیں ہوتی ہیں ان کی۔اس کو تو دھوکا کہا جاسکتا ہے یہ کس طرح دھوکا ہو گیا کہ مار پڑ رہی ہو اور یہ دھوکا دے کر بلایا جار ہا ہے۔عجیب قسم کا دھوکا ہے! ہر تعریف اُلٹ گئی ہے، ہر بات ہی الٹی ہوگئی اور پھر یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے ساتھ ہی دوسرا پہلو یہ ہے کہ آنے والا منافق نہیں ہے نہ وہ جماعت منافق ہے جس میں آرہا ہے نہ وہ آنے والا منافق ہے کیونکہ جھوٹ کی خاطر کوئی ایسی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ اعلان تو یہ ہورہا ہو کہ فلاں شخص کی چوری ہوگئی ہے اور جو چور پکڑا جائے گا اس کو ہم منہ کالا کریں گے، گدھے پر سوار کریں گے، جو تیاں مارتے ہوئے شہر سے نکال دیں گے اور کوئی شخص جس نے چوری نہ کی ہو وہ جھوٹ بول کر منافق