خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 313
خطبات طاہر جلد ۳ 313 خطبه جمعه ۱۵/ جون ۱۹۸۴ء ہم تمہیں یہ بتاتے ہیں کہ بچوں کے گروہ میں شامل ہو جاؤ اور اس کے بعد صرف یہ کہہ کر بات چھوڑ نہیں دی گئی بلکہ جیسا کہ قرآن کریم کا طریق ہے انگلی پکڑ کر پھر رستوں پر چلاتا ہے جو دعویٰ کرتا ہے وہ دکھاتا ہے کہ دیکھو کمزوروں کے چہرے ایسے ہوتے ہیں، بچوں کے چہرے ایسے ہوتے ہیں، جھوٹوں کے ایسے ہوتے ہیں اور خوب اچھی طرح پہچان کروادیتا ہے تا کہ کوئی شخص اس غلط نہی میں مبتلا نہ رہے کہ ہمیں کہ تو دیا گیا تھا کہ بچوں کے ساتھ ہو جاؤ لیکن ہم پہچان نہیں سکے، دھوکہ کھا گئے، غلطی سے جھوٹوں کو سچا سمجھ بیٹھے۔چنانچہ اس عنوان کے تحت یہ ایک عنوان ہے دراصل يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ، بیچوں میں شامل ہو جاؤ۔اس عنوان کے تحت پھر دو گروہوں کا تعارف فرماتا ہے مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْأَعْرَابِ دینہ کے بعض لوگوں میں سے اور ان میں سے جو اعراب کہلاتے ہیں یعنی بدو، اردگرد بسنے والے لوگ ہیں ان کو یہ زیبا نہیں تھا، ان کے لئے یہ مناسب نہیں ها أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَّسُولِ اللهِ کہ وہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور جس طرف رخ کر کے وہ چلے اس طرف رخ کر کے وہ نہ چلنا شروع کر دیں۔زیب نہیں دیتا ان کو کہ محمد مصطفی علی کے قدم تو کسی اور سمت میں اٹھ رہے ہوں اور ان کے قدم کسی اور سمت میں اٹھ رہے ہوں۔وہ آگے بڑھ رہا ہو اور یہ پیچھے رہ رہے ہوں۔دوسری بات یہ زیب نہیں دیتی وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَن نَّفْسِ کہ وہ اپنے نفوس کو محمد مصطفی ﷺ کے نفس پر ترجیح دینے لگ جائیں ، اپنے آرام کا زیادہ خیال رکھیں اور آنحضور ﷺ کے آرام کا کم خیال رکھیں ، اپنے دل کی باتوں کو محمد مصطفی ﷺ کی مرضی پر فوقیت دینے لگیں۔فرماتا ہے یہ ان کے لئے زیبا نہیں تھا، مناسب نہیں تھا مگر فرماتا ہے کیوں ایسا ہوا؟ الذلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَا وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ في سَبِيلِ اللہ محض اس لئے ایسا ہوا ہے کہ ان کو مصیبت نہیں پہنچی ان کو تکلیف نہیں اٹھانی پڑی نہ پیاس کی ، نہ مشقت کی ، نہ بھوک کی، اللہ کے راستے میں انہوں نے یہ تکلیفیں نہیں اٹھا ئیں اور یہ تعلق ایسا ہے دینی تعلق کہ تکلیف کے نتیجہ میں مضبوط ہوتا ہے کمزور نہیں پڑتا۔چنانچہ اسی مضمون کو حضرت