خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 651
خطبات طاہر جلد ۲ 651 خطبه جمعه ۳۰/دسمبر ۱۹۸۳ء اللہ تعالیٰ کا عظیم کا رخانہ قدرت (خطبه جمعه فرموده ۳۰ دسمبر ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصی ربوه) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات قرآنی تلاوت فرمائیں: اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُو بِهِمْ وَ يَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ ج وَالْأَرْضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران: ۱۹۱ ۱۹۲) پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اتنے احسانات اور اتنے فضل اور اتنے کرم ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔اس کے احسانات کے شکر کی جتنی بھی کوشش کی جائے توفیق نہیں ملتی۔اس جلسہ پر ہم نے اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کو نازل ہوتے دیکھا۔باوجود اس کے کہ توقع سے بھی بڑھ کر حاضری تھی ، حالانکہ توقعات بھی کافی بلند تھیں پھر بھی سارے انتظامات خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی عمدگی سے ، اس خوش اسلوبی سے انجام پذیر ہوئے کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ بہتا ہوا پانی ہے، نہ اس پر کسی کو زور لگانا پڑ رہا ہے، نہ اس کا رخ معین کرنا پڑ رہا ہے، ایک خود روسی چیز تھی جو خود بخو دگزرتی چلی جارہی تھی۔گزشتہ سال جلسہ سالانہ کی حاضری کی جو تعداد پنڈالوں میں گنتی کے ذریعہ معلوم ہوئی تھی