خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 612 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 612

خطبات طاہر جلد ۲ 612 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۳ء میں انسان احسان کے نیچے آیا ہوا ہوتا ہے وہ دو ستم کا مجرم بن جاتا ہے۔احسان کش بھی محسن کش بھی اور خائن بھی بن جاتا ہے۔اس پہلو سے جماعت کو بہت اونچے معیار کی ضرورت ہے۔میں تو بعض دفعہ شرم سے کٹ جاتا ہوں جب بعض غیر احمدی یہ لکھتے ہیں کہ فلاں احمدی نے ہم سے یہ قرض لیا تھا، جب اسے ضرورت تھی اسے ہم نے ادا کیا، اب ہمیں ضرورت ہے تو وہ واپس نہیں کر رہا۔بعض لوگ جھوٹی شکائتیں بھی کر دیتے ہیں لیکن بعض شکایتوں کی میں نے تحقیق کروائی اور ثابت ہوا کہ بات بالکل درست ہے تو یہ بہت ہی بڑا جرم ہے بلکہ ایک تیسرا جرم شامل ہو گیا یعنی جب آپ نے غیروں سے بد معاملگی کی تو آپ لوگ تبلیغ اور جماعت کی نیک نامی میں روک بن گئے۔پس امانت کے معیار کو بلند کیجئے اور یہ دیکھئے کہ غلام کس کے ہیں ، آپ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلام ہیں جو سب امینوں سے بڑھ کر امین تھے، جنہوں نے امانت کے مقام کو انتہا تک پہنچا دیا۔ان کی غلامی کے دعوے دار ہو کر یہ باتیں زیب نہیں دیتیں کہ چھوٹی چھوٹی امانتوں میں بھی آپ خیانت کر جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک واقعہ آپ کو سناتا ہوں ایسے بہت سے واقعات ہیں لیکن ایک واقعہ سناتا ہوں اس سے آپ اندازہ کریں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے کیوں چنا تھا؟ اس لئے کہ آپ حضرت محمد مصطفی علی کے پیچھے قدم بقدم چلنے والے تھے۔آپ نے ہر خلق حضرت محمد مصطفی ملے سے سیکھا تھا اور پھر اس کے تمام بار یک تقاضوں کو پورا کیا۔ایک دفعہ آپ سیر کے لئے تشریف لے جا رہے تھے میاں محمد عبد اللہ سنوری صاحب ساتھ تھے۔بیروں کا موسم تھا ایک بیری سے سرخ رنگ کا ایک بیر سڑک پر گرا ہوا تھا میاں عبداللہ صاحب نے اٹھالیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ کس کی بیری ہے؟ انہوں نے کہا پتہ نہیں کس کی ہے۔پھر فرمایا آپ نے اس سے پوچھا کہ میں تمہارا یہ بیر لے سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا۔یہ سڑک پر پڑا ہوا تھا۔آپ نے فرمایا کہ پھر وہیں رکھ دو۔(سیرۃ المہدی جلد اول روایت نمبر ۱۱۱) تو جس کا امام اتنا عظیم الشان ہو کہ دنیا کے سب سے بڑے امین کا غلام کامل ہو جائے اور ہر بات میں، ہر قدم پر انتہائی باریکی سے غلامی کا حق ادا کر رہا ہو اس کی طرف منسوب ہونے کے بعد آپ اندازہ کریں کہ آپ سے دنیا کی طرف سے امانت کے کتنے بلند تقاضے ہوں گے۔اگر آپ نے اس امانت