خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 43
خطبات طاہر جلد ۲ 43 خطبه جمعه ۲۱ جنوری ۱۹۸۳ء چاہئیں۔پس اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر وہ اپنے دائرہ کار کو بڑھائیں اور بچیوں کو چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں تقسیم کریں تو مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ لجنہ کے کاموں میں بھی برکت پڑے گی اور ان بچیوں کی ساری زندگی بھی سنور جائے گی۔ہماری ان بچیوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ان کی سوسائٹی کا ایک رخ بدلنے والا ہے کیونکہ جو آزادلڑ کیاں تھیں وہ آزاد سوسائٹی میں جایا کرتی تھیں۔وہاں ان کے وقت کے کچھ مصرف تھے، وہاں ان کے لئے دلچسپی کے کچھ سامان تھے ، اب جبکہ انہوں نے خدا کی خاطر ان راہوں سے منہ موڑا ہے تو ہمارا اور بھی زیادہ فرض ہے کہ ان کے لئے بہتر لذتوں کے سامان پیدا کریں اور ان کے وقت کا بہتر مصرف ان کو بتا ئیں۔پس لجنہ اماءاللہ اگر تمام دنیا میں ایک با قاعدہ سکیم کے تحت ان بچیوں اور ان عورتوں کو بھی جنہوں نے غیر معمولی عزم اور ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنی زندگی کو بدلنے کا فیصلہ کیا ہے، آگے بڑھ کر ان کا استقبال کریں اور نظام جماعت میں ان کو جذب کریں اور ان سے خدمت لیں اور ان کو بتائیں کہ زندگی کا اصل لطف دین کی خدمت میں ہے اور اس کے مواقع مہیا کریں تو میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے مستقبل کے لئے یہ قدم بہت ہی با برکت ثابت ہوگا۔مردوں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عورتوں کو پردے کی تعلیم اس لئے نہیں ہے کہ وہ مردوں کی غلام بنائی جائیں۔خدا تعالیٰ نے عورتوں کو اپنی عصمت کی حفاظت کی تلقین اس لئے نہیں فرمائی کہ وہ مردوں کی باندیاں بنادی جائیں۔حقیقت یہ ہے کہ مرد اور عورت کے حقوق خدا کی نظر میں برابر ہیں مگر چونکہ ان کی خلقت میں کچھ فرق ہے اور ان کی تخلیق کے تقاضے کچھ مختلف ہیں اس لئے بعض ذمہ داریاں ان مختلف تقاضوں کے پیش نظر بدل جاتی ہیں اور تعلیمات کے کچھ حصے بھی اسی فرق کے پیش نظر مختلف ہو جاتے ہیں لیکن جہاں تک حقوق کا تعلق ہے مرد اور عورت کے حقوق میں ایک ذرہ بھی فرق نہیں ہے۔لیکن مجھے یہ دیکھ کر بہت تکلیف پہنچتی ہے کہ معاشرے کے بداثرات کے نتیجے میں جماعت احمدیہ میں بھی بہت سے مرد ظالم ہیں۔وہ اپنی عورتوں کے حقوق ادا نہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ بچے پیدا کرنے والی مشینیں بن جائیں اور ہماری خاطر ہر قسم کے دکھ اٹھا ئیں اور ہر قسم کی مصیبتیں برداشت کریں اور اُف تک نہ کریں اور پھر بھی اگر ادنی سا شکوہ بھی