خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 36

خطبات طاہر جلد ۲ 36 خطبه جمعه ۱۴/ جنوری ۱۹۸۳ء تو بہ کے ارادہ سے ایک طرف چل پڑا اور پیشتر اس کے کہ وہ اپنی منزل مقصود کو پہنچتا اس کی موت واقع ہوگئی۔فرشتوں نے یہ معاملہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کیا اور عرض کیا اے اللہ ! اس سے کیا سلوک کیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ تو بہ کے ارادہ سے چل پڑا تھا تم یوں کرو کہ دونوں طرف کی زمین ناپو، جس طرف اس نے جانا تھا اس طرف کی بھی ناپ لو اور جس طرف سے چلا تھا اس طرف کی بھی ناپ لو اور جس طرف کی زمین زیادہ ہو اسی کے حق میں فیصلہ کر دو۔اور ساتھ ہی خدا کی تقدیر نے یہ کیا کہ فرشتہ جب اس طرف کی زمین ناپ رہا تھا جو گناہ کی طرف کی زمین تھی تو وہ زمین سکڑتی چلی گئی اور جب اس طرف کی زمین ناپ رہا تھا جو نیکی کی طرف کی زمین تھی تو زمین پھیلتی چلی گئی۔یہاں تک کہ بالآ خر نیکی والا عرصہ بدی والے عرصہ پر غالب آ گیا اور خدا نے اس کو معاف فرما دیا۔(صحیح مسلم کتاب التوبة باب قبول توبتہ القائل و ان کثر قتلہ ) اب بظاہر یہ ایک عجیب سی بات لگتی ہے۔لیکن اگر آپ غور کریں تو یہ ایک مربوط نظام کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَزَوا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری: ۴۱) ہر بدی کا بدلہ بدی سے زیادہ نہیں دیا جائے گا اور اگر اللہ چاہے تو اس بدی کو معاف بھی کر سکتا ہے یعنی اس زمین کو اور بھی چھوٹا کر سکتا ہے۔اور جہاں تک نیکیوں کا تعلق ہے فرمایا اس کی کوئی حد ہی نہیں ہے جتنا خدا چاہے اس کو بڑھاتا چلا جائے۔تو یہ مضمون ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا گیا۔یہ کہہ کر کہ اس کی بدیوں کی زمین تنگ کی گئی۔جب خدا تعالی بخشش پر آمادہ تھا تو اصل بدیوں سے زیادہ تو جزا دینے کا سوال ہی نہیں تھا۔وہ بدیاں کم کرتا چلا جار ہا تھا اور نیکیوں کی جزا اس کے قبضہ میں تھی وہ بڑھاتا چلا گیا اس لئے ہر قسم کے گناہوں پر ادنیٰ سے ادنی نیکی بھی غالب آسکتی ہے اگر اللہ تعالیٰ مغفرت کا ارادہ فرمالے۔صل الله پھر آنحضرت ﷺ نے بنی نوع انسان کو توجہ دلانے کے لئے اور خدا تعالیٰ کا رحم جیتنے کے لئے ایک عجیب واقعہ بیان فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ خدا کی خشیت بھی بعض دفعہ ایسا محرک بن جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ گویا بخشش پر مجبور ہو جاتا ہے اور بخشش کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ملتا۔ایس مُشتِ خاک گرنه خشم چه کنم۔یہ مضمون پیدا ہو جاتا ہے۔اس خاک کی مٹھی کو میں نہ بخشوں تو کروں کیا۔ایسی ہی ایک خاک کی مٹھی کی آنحضور ﷺ نے مثال دی اور فرمایا کہ ایک شخص اتنا گناہگار تھا کہ ہر طرف سے اس کو مایوسی تھی اور وہ جانتا تھا کہ دنیا کی کوئی بدی نہیں ہے جو میں نے نہ کی ہو اس لئے جانتا تھا کہ میں